آسٹریلیا: اسلامی کتابوں پر تفتیش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا میں پولیس ان اطلاعات کی تفتیش کر رہی ہے کہ سڈنی میں کتابوں کی ایک دکان انتہا پسند اسلامی کتب فروخت کر رہی ہے جن میں ایک ایسی اسامہ کی تصدیق شدہ کتاب بھی شامل ہے۔ نیوز ساوتھ ویلز پولیس کمشنر کین مورونی نے کہا ہے کہ پولیس کو پہلے یہ تعین کرنا ہوگا کہ آیا تشدد پر اکسانے کے حوالے سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے۔ مذکورہ کتاب خانے کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے وکلاء سے مشورے کے بعد اس سلسلے میں ایک بیان جاری کریں گے۔ آسٹریلیا کے مسلمان علماء نے اس طرح کے لٹریچر کی پرزور طریقے سے مذمت کی ہے۔ سڈنی ٹیلی گراف کے مطابق اسلامک بک سٹور میں ’ ڈیفنس آف مسلم لینڈ‘ نامی ایک کتاب کا جس کے سرورق پر اسامہ کی تصدیق موجود ہے ذخیرہ موجود ہے۔ اس کتاب میں خود کش حملوں کے موثر ہونے اور مختلف قسم کے بم حملوں پر بحث کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کئی اور متنازعہ کتب بھی مبینہ طور پر دکان میں موجود ہیں جن میں ’جائن دی کارواں‘ بھی موجود ہے جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کب تک مسلمان نوجوانوں کو جہاد کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ٹیلی گراف نے الزام عائد کیا ہے کہ کئی دوسری کتاب کی دکانوں پر بھی اس طرح کی کتب فروخت ہو رہی ہیں۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ اس سلسلے میں قانونی مشورہ درکار ہے کہ آیا ان کتابوں کے لکھنے والے، ناشرین اور فروخت کرنے والوں نے واقعی کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا لوگوں کو تشدد پر اکسانا واضح طور پر ایک جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر اس لٹریچر کو کم از کم اشتعال انگیز سمجھتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||