BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 November, 2005, 08:53 GMT 13:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشت گردی کی کوشش ناکام‘
پولیس
ترمیم شدہ قانون میں پولیس کے اختیارات کو بہت زیادہ وسیع کر دیا گیا ہے
آسٹریلیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نےدہشت گردی کے ایک حملے کو ناکام بنا دیا ہے جو اپنی تیاری کے آخری مرحلے میں تھا۔ اس سے قبل پولیس نے سولہ افراد کو سڈنی اور ملبورن سے گرفتار کیا تھا۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس چیف کین مورونے کا کہنا ہے کہ ایک ’انتہائی تباہ کن حملے‘ کے خطرے کو ٹال دیا گیا ہے۔

سڈنی میں چھاپے کے دوران ایک مشتبہ شخص گولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس چھاپے میں کیمیکل، ہتھیار اور کمپیوٹروں کو قبضے میں لیا گیا۔

یہ آپریشن آسٹریلیا کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف قانون میں تبدیلی کے بعد کیا گیا۔ اس قانون میں تبدیلی کرکے پولیس کے اختیارات کو بہت زیادہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

دہشت گردوں کے خلاف ملک کےسب سے بڑے آپریشن میں پولیس نے سڈنی اور ملبورن کےتئیس مکانات پر منگل کی صبح چھاپے مارے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سولہ ماہ سے جاری تفتیشی کارروائی کے بعد منگل کو کیے گئے اس آپریشن میں پانچ سو سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا۔

کین مورونے نے آسٹریلیا کے اے بی سی ریڈیو کو بتایا کہ وہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے اس حملے کو جو تیاری کے آخری مراحل میں تھا ناکام بنا دیا گیا۔

ملبورن سے گرفتار ہونے والوں میں آسٹریلیا کےالجزائری مذہبی رہنما ابو بکربھی ہیں جنہوں نے اسامہ بن لادن کو ایک عظیم شخص قرار دیا تھا۔

وہ ان نو افراد میں شامل ہیں جہنیں منگل کی صبح عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان پر ایک دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کا الزام لگایا گیا تھا۔

سڈنی سے گرفتار ہونے والوں کو بھی جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

گرفتار ہونے والوں کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

پولیس نے اس ناکام بنائے جانے والے حملے کے نشانے کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں لیکن وکٹوریہ سٹیٹ کے پولیس چیف کرسٹائن ٹکسون کا کہنا ہے کہ آئندہ سال ملبورن میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز اس حملے کا نشانہ نہیں تھے۔

آسٹریلیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا حلیف ہے اور اس نے اپنے فوجی عراق اور افغانستان میں لڑنے کے لیے بھیجے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد