آسٹریلیا: ہاورڈ کی کامیابی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے عام انتخابات میں وزیراعظم جان ہاورڈ کے حکمران اتحاد نے چوتھی بار کامیابی حاصل کر لی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ پارلیمان میں حکمران اتحاد کی نشستوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم ہاورڈ کے مخالف لیبر پارٹی کے رہنما مارک لیتھم نے، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر انہیں کامیابی ملی تو وہ عراق سے آسٹریلوی افواج واپس بلالیں گے، اپنی شکشت قبول کرلی ہے۔ آسٹریلیا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جان ہاورڈ نے انتخابی مہم کے دوران عوام کے سامنے قومی سلامتی اور معیشت کے مسائل کو اجاگر کیا تھا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق آسٹریلوی ووٹروں نے حزب اختلاف کے رہنما مارک لیتھم کو ناتجربہ کار تصور کیا اور اس بات کا خدشہ عام تھا کہ وہ ملک کی اقتصادی کامیابی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
دنیا کی نظریں آسٹریلوی انتخابات پر اس لئے بھی مرکوز تھیں کہ جان ہاورڈ نے کہا تھا کہ آسٹریلوی فوجیں ضرورت رہنے تک عراق میں ہی رہیں گی جبکہ ان کے مخالف مارک لیتھم نے کہا تھا کہ اس سال کے آخر تک وہ فوجیں واپس بلالیں گے۔ آسٹریلیا میں تیرہ ملین ووٹر ہیں اور وہاں کے قانون کے مطابق ہر آسٹریلوی کے لئے ووٹ دینا لازمی ہے۔ ووٹ نہ دینے کی صورت میں جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ سِڈنی میں ایک شخص جو پاس کے سمندر میں سوئمِنگ کررہا تھا پانی سے نکل کر سیدھے ووٹ ڈالنے آیا اور پھر واپس نہانے چلاگیا۔ رائے شماری کے جائزوں میں کہا گیا تھا کہ دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے کی لڑائی ہے لیکن جب ابتدائی نتائج آنا شروع ہوئے تو یہ واضح ہوگیا کہ حزب اختلاف کے امیدوار مارک لیتھم نہیں جیت سکتے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے انتخابات میں جان ہاورڈ کی کامیابی سے ان لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے جو جنگِ عراق کے حامی تھے۔ سنیچر کے روز ہی افغانستان میں پہلی بار ووٹ ڈالے گئے اور دو نومبر کو امریکہ کے صدارتی انتخابات میں پولنگ ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||