BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 October, 2004, 17:56 GMT 22:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جان ہاورڈ : طاقتور سیاست داں
جان ہاورڈ مشکل فیصلے لینے سے نہیں ڈرتے
جان ہاورڈ مشکل فیصلے لینے سے نہیں ڈرتے
جان ہاورڈ مسلسل چوتھی مرتبہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم بنے ہیں۔چار سال قبل جب جان ہاورڈ پہلی بار آسٹریلیا کے وزیر اعظم بنے تب ہی سے انہوں نے یہ واضح کر دیا تھا کہ کوئی انہیں پسند کرے یا دھتکارے وہ ہر صورت میں ایک مضبوط سیاستداں ثابت ہونگے۔

جان ہاورڈ نے لبرل پارٹی کے صدر کے طور پر حکمران اتحاد کی حکومت چلاتے ہوئے کئی مرتبہ اپنی حکومت کوحزب اختلاف پارٹیوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے پایا۔

عراق میں جاری جنگ میں اپنی فوجیں روانہ کرنے کے ان کے فیصلے کی زبردست مخالفت ہوتی رہی ۔ لیکن جب جنگ ختم ہوگئی اور ایک بھی آسٹریلیائی ہلاک نہ ہوا تو لوگ ان کے حامی بنتے گئے۔

شدید مخالفت کے باوجود انہوں نے اپنے دور حکومت میں گن کنٹرول، مزدور یونین، قبائلی باشندوں کے لیے زمینی ملکیت اور فلاحی اخراجات جیسے متنازعہ
قانون بھی بنائے۔

جان ہاورڈ کا نام 2001 میں بھی دنیا کی اخباری سرخیوں میں رہا جب انہوں نے
سیاسی پناہ مانگنے والے تاریک وطن کو منع کردیا تھا۔ خاص طور پر 400 ناروے کے پناہ گزینوں کو ان کا انکار کرنا کافی مشہور ہوا تھا۔

اس کے لیے جہاں انہیں انسانی حقوق کے اداروں نے زبردست تنقید کی وہیں آسٹریلیا کے متوسط طبقے نے ان کے اس فیصلے کے حق میں حامی بھری۔

کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بحران کے اوقات میں جان ہاورڈ ایک طاقتور حاکم کے طور پر اپنے آپ کو نمایاں کرتے ہیں۔

پینسٹھ سال کی عمر میں جب اکثر لوگ ریٹائرڈ زندگی گزارنے کے حق میں ہوتے ہیں جان ہاورڈ نے چوتھی بار الیکشن کے لیے مہم کی اور جیتے بھی۔

جان ہاورڈ نے انتخابی مہم کے دوران عوام کے سامنے قومی سلامتی اور معیشت کے
مسائل کو مسلسل اجاگر کیا تھا۔

جان ہاورڈ 26 جولائی 1939 کو سڈنی میں پیدا ہوئے تھے۔ متوسط طبقے سے وابستہ ان کے والدین ایک پٹرول سٹیشن چلاتے تھے۔

اٹھارہ سال کی عمر میں جان ہاورڈ نے لبرل پارٹی میں شرکت کی۔ اور سڈنی کی یونیورسٹی کی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ مگر جلد ہی وہ سیاست سے بے دخل ہو کر انہوں نے پہلا پیشہ ایک وکیل کی حیثیت سے بنایا۔

سن 1962 میں وہ نیو ساؤتھ ویلس سپریم کورٹ میں داخل ہوئے اور سڈنی کے ایک قانونی ادارے میں حصے دار بن گئے۔

اسی دوران جینیٹ نامی ایک ٹیچر سے ان کی ملاقات ہوئی اور پھر شادی ہوئی
اور ان کے تین بچے ہوئے۔

جان ہاورڈ نے سیاست میں باضابطہ قدم 1975 میں رکھا جب انہوں نے بنیلونگ نشست سے الیکشن جیتا اور آج تک یہ نشست ان ہی کے قبضے میں ہے۔

سن 1975 میں مالکم فریزر کی صدارت میں لبرل پارٹی کی جیت کے بعد سے جان ہاورڈ کو مزید ترقی ملی اور وہ 1982 میں اپنی پارٹی کے نائب صدر منتخب بنائے گئے۔ حالانکہ اس کے بعد سے مسلسل تقریباً ایک دہائی تک ان کی پارٹی کو لیبر پارٹی کے سامنے شکست اٹھانی پڑی ۔

جان ہاورڈ اپنی پارٹی کے صدر تھے اور اس طرح 1985 میں حزب مخالف کے صدر بھی رہے۔ مگر 1985 میں اینڈریو پیکوک نے ان کی جگہ لی لیکن پھر سے 1995 میں الیکزانڈر ڈاؤنر کے استعفیٰ کے بعد ان کو یہ عہدہ مل گیا۔

اس کے بعد جان ہاورڈ نے نیشنل پارٹی کے ہمراہ ایک ساجھہ داری کی اور ایک اتحاد بنا کر زبردست جیت حاصل کی۔ اور اس طرح مارچ 1996 میں وہ ملک کے 25 ویں وزیر اعظم بنے۔

وہ اتحادی حکومت کے صدر کے طور پر 1998, 2001 اور 2004 میں جیت حاصل کرتے آئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد