آسٹریلیا: ووٹنگ شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے عام انتخابات میں ہفتے کو ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ داخلی اموُر کے ساتھ ساتھ ان انتخابات کے نتائج پر عراق میں آسٹریلیا کی فوج کے رہنے یا واپس بلائے جانے کے فیصلے کا بھی انحصار ہے۔ قدامت پرست کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے ملک کے موجودہ صدر جان ہورڈ فوج کی عراق میں موجودگی کے حق میں ہے۔ آسٹریلیا کے ساڑھے آٹھ سو فوجی عراق میں تعینات ہیں۔ جان ہورڈ کے مخالف امیدوار لیبر پارٹی کے مارک لیتھم نے کہا ہے کہ اگر وہ انتخابات جیت گئے تو کرسمس سے پہلے عراق سے فوج واپس بلا لیں گے۔ انتخابات سے پہلے شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق کنزرویٹو جماعتوں کے اتحاد کو لیبر پارٹی کے اڑتالیس عشاریہ پچاس فیصد ووٹروں کے مقابلے میں اکیاون عشاریہ پچاس فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے تجزیے کے مطابق بھی آسٹریلیا کی کنزرویٹو پارٹی کو ان انتخابات میں معمولی برتری حاصل ہے۔ تجزیوں میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دس فیصد ووٹر آخری وقت تک فیصلہ نہیں کر پائے تھے کہ وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے۔ جان ہورڈ کے مطابق بھی مقابلہ بہت سخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی تناؤ محسوس کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں ووٹنگ لازمی ہے اور بہت سے سکول جہاں پولنگ سٹیشن بنائے جاتے ہیں اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خیراتی کیمپ، کافی سٹال اور دیگر مصروفیات کا بندو بست کرتے ہیں۔ آسٹریلیا میں ووٹنگ کے نظام کے تحت ایک ووٹر دو ترجیحات بتاتا ہے۔ اگر اس کا پسندیدہ امیدوار کامیاب نہ ہو تو ان کا ووٹ ان کے دوسرے پسندیدہ امیدوار کے حق میں گنا جاتا ہے۔ اس طرح بہت سے چھوٹی جماعتوں کے ووٹ اہم ہو جاتے ہیں۔ موجودہ انتخابات میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ’گرین پارٹی‘ کے حمایتی اپنی دوسری ترجیح کے طور پر لیبر پارٹی کی حمایت کریں گے۔ ’گرین پارٹی‘ کی کامیابی کا زیادہ امکان نہیں اور ان کے ووٹ لیبر پارٹی کو مل جائیں گے جس سے نتائج پر فرق پڑ سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||