بیس ہزار کیلیے آسٹریلوی شہریت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا اپنی ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بیس ہزار ہنر مند افراد کو شہریت دے گا۔ یہ 1960 کے بعد کی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی بھرتی ہوگی۔ آسٹریلوی محکمہ امیگریشن کے ترجمان عبدل رضوی کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کو انجینئروں، ڈاکٹروں، مکینکوں اور اکاؤنٹنٹوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے یورپ اور بھارت میں نمائشیں منعقد کی جائیں گی اور محکمہ امیگریشن اس برس لندن، برلن، مدراس اور ایمسٹرڈم میں نمائشیں منعقد کرے گا۔ عبدل رضوی نے کہا کہ ’ ہم ابتدائی طور پر ان شہروں میں نمائش منعقد کریں گے اور اگلے برس ان نمائشوں سے ملنے والے تجربے کی بنیاد پر دیگر جگہوں پر نمائشیں ہوں گی۔ آسٹریلوی محکمہ امیگریشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ’ ہم کہیں سے بھی ہنر مند افراد کو بلا سکتے ہیں‘۔ آسٹریلیا پر اکثر امیگریشن کے سخت قوانین کی بناء پر تنقید کی جاتی رہی ہے تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں اس وقت افرادی قوت کی سخت کمی ہے جس سے ملک کی شرحِ نمو متاثر ہو رہی ہے۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں آسٹریلیا نے برطانوی افراد کو آسٹریلیا بلانے کے لیے ایک مہم چلائی تھی جس کے نتیجے میں قریباً دس لاکھ افراد آسٹریلیا گئے تھے۔ تاہم اس مرتبہ بھرتی کی اس مہم کا مقصد مخصوص ہنرمند افراد کو بلانا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||