مصرکے انتخابات میں تشدد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر میں پارلیمانی انتخابات کے آخری مرحلے میں حزبِ اختلاف اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مصر کے انسانی حقوق کے ادارے نے بتایا کہ حزب اختلاف کا ایک حامی ہلاک ہو گیا جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔ پولیس نے ایسے علاقوں میں جانے کے راستوں پر رکاوٹیں کھڑیں کر دی ہیں جہاں اپوزیشن اور ’مسلم برادر ہوڈ‘ پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہے۔ ان پرتشدد واقعات کا آغاز اپوزیشن پارٹیوں کے سینکڑوں کارکنوں کی گرفتاری سے ہوا۔ انتخابات کے نگران ججوں کے نمائندے محمودالہودری نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے رکاوٹیں نہ ہٹائیں تو وہ ججوں کو الیکشن کے عمل سے باہر نکال لیں گے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ پولیس نے کچھ علاقوں میں پولنگ سٹیشن بند کیے ہوئے ہیں۔ ان پولنگ سٹیشنوں پر دورہ کرنے والے ججوں کو بھی اندر نہیں جانے دیا گیا‘۔ وزارت داخلہ کے ترجمان پولیس جنرل ابراہیم حماد نے بتایا کہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں لیکن ووٹروں کو داخلے سے نہیں روکا جا رہا۔ امریکہ نے مصر پر زور دیا ہے کہ لوگوں کو آزادانہ طریقے سے ووٹ کا حق استعمال کرنے دیا جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی تشدد اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اس مرحلے میں پارلیمنٹ کی 454 نشتوں میں سے 136 پر انتخاب کا عمل جاری ہے جس کے لیے ایک کروڑ شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ’مسلم برادر ہوڈ‘ پارٹی انتخابات کے پہلے دو مراحل میں اپنی نشستوں کی تعداد پانچ گنا بڑھانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اس وقت اس کے پاس 76 نشستیں ہیں۔ اگرچہ اس پارٹی پر قانونی طور پر پابندی ہے لیکن اس کے امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ جمعرات کے انتخابی مرحلے کے علاقوں میں اس کے پانچ سو سے زائد کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے صدر حسنی مبارک کی حکمران پارٹی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے برادر ہوڈ کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ انتخابات کے نگرانوں کا کہنا ہے کہ ہفتہ کے روز انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران تشدد، لڑائی جھگڑے اور دھاندلی کی اطلاعات ملی تھیں۔ ججوں نے بھی لڑائی کے دوران سیکیورٹی اداروں کی عدم مداخلت پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایاہے اور دوسرے مرحلے کے نتائج کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ حکمران پارٹی این ڈی پی کو انتخابات میں بہت سے دھچکے لگیں ہیں لیکن پھر بھی وہ اب تک 201 نشستیں جیت چکی ہے اور توقع ہے کہ یہ پارٹی بالآخر اکثریت حاصل کر لے گی۔ حتمی نتائج آنے میں ابھی مزید ایک ہفتہ لگے گا۔
عرب امور پر بی بی سی کے تجزیہ نگار ماجدی عبدالہادی کا کہنا ہے کہ تشدد کے باوجود ان انتخابات کے مصر کی سیاست پر دور رس تائج مرتب ہوں گے۔ مسلم برادر ہوڈ پارٹی کی غیر متوقع کامیابی سے حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان طاقت کا توازن بدل گیا ہے۔ ان انتخابات نے برادر ہوڈ پارٹی کو پارلیمنٹ میں ایک قانونی پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے۔ بطور ممبران پارلیمنٹ اس پارٹی کے ممبران کے پاس بھی اب گرفتاری کے بغیر حکمران پارٹی پر تنقید کرنے کا موقع ہو گا۔ | اسی بارے میں مصر: انتخابات میں تشدد کے واقعات27 November, 2005 | آس پاس سعودی عرب میں خواتین امیدوار29 November, 2005 | آس پاس مکمل فتح سے کم کچھ بھی نہیں: بش30 November, 2005 | آس پاس غزہ سے اسرائیلی واپسی، مصری منصوبہ25 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||