مصر: انتخابات میں تشدد کے واقعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر میں پارلیمانی انتخابات کا حالیہ مرحلہ رائے دہندگان پر حملوں، بڑے پیمانے پر سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور بالآخر پولیس کی جانب سے انتخابی مراکز بند کر دینے جیسے واقعات کے ساتھ انجام تک پہنچا۔ انتخابات کی نگرانی کرنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفین کے غول کے غول انتخابی مراکز میں رائے دہندگان کو حملوں کا نشانہ بناتے رہے۔ مبصرین نے مزید کہا کہ پولیس نے حزب اختلاف کی سیاسی جماعت اخوان المسلمین کےعلاقوں میں ووٹ ڈالنے جانے والوں کے انتخابی مراکز تک پہنچنے کے راستے بند کر دیے تھے۔ اخوان المسلمین نے الزام لگایا ہے کہ اس کے چھ سو زیادہ اراکین گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ لیکن مصر کی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل ابراہیم حامد انتخابی عمل کے دوران بلوے، بدامنی اور تشدد کے واقعات کے تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہر حلقے میں مکمل طور پر پرامن انداز میں ووٹ ڈالے گئے۔ بدقسمتی سے بعض ٹیلی ویژن چینلز نے یہ خبریں نشر کی ہیں کہ بعض علاقوں میں تعطل رہا۔ مگر ان اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔ وزارت داخلہ ان کی مکمل طور پر تردید کرتی ہے‘۔ اخوان المسلمین پرسرکاری طور پر پابندی ہے لیکن اس کے امیدوار آزاد امیداوار کی حیثیت سےان پارلیمانی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ تین مرحلوں کے انتخابات کے پہلے دو مرحلوں میں اخوان المسلمین ایک سو چھیاسی نشتوں میں سے سینتالیس نشستوں پر کامیابی حاصل کرچکی ہے اور اب تک ایوان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ توقع ہے کہ برسر اقتدار جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرلے گی لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمین کی کامیابی نے حکمراں جماعت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انتخابات کا یہ حتمی مرحلہ ان حلقوں کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہوگا جہاں چھ روز قبل دوسرے مرحلے میں کسی بھی امیدوار نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ ان انتخابات کی نگرانی کے لیے خصوصی طور پر قائم کمیٹی نے دونوں اطراف پر تشدد کا الزام لگایا ہے۔ انتخابات کی نگرانی کرنے والے اور انسانی حقوق سے منسلک ایک کارکن نجاد البرائی کاکہنا ہے کہ ووٹرز کو انتخابی مراکز میں جانے سے زبردستی روکا گیا اور بہت سے مراکز خالی پڑے رہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا اس سارے عمل کا مقصد لوگوں کو رائے دینے سے روکنا ہے تاکہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔ اخوان المسلمین کے مطابق مصر کے ایک اور شہر الیگزنڈریا میں پولیس نے ایک انتخابی مرکز کو جانے والی تمام سڑکیں بند کر رکھی تھیں۔ اخوان المسلمین کا دعویٰ ہے کہ اسی شہر میں اس کے درجنوں منتظمین اور حامیوں کو اس سے قبل گرفتار کر لیا گیا تھا۔ حکمران جماعت این ڈی پی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس انتخابی مرکز کو اس لیے بند کیا گیا کہ حزب اختلاف کی جماعت اخوان المسلمین وہاں مقبول ہے اور اگر اس مرکز کو کھول دیا جاتا تو حزب اختلاف کے کارکن مشکلات پیدا کرسکتے تھے۔ ایک سینیئر جج ہاشم البستوی کے مطابق کچھ ججز بعض علاقوں میں انتخابات ملتوی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان ججز نے پولیس کی زیادتیوں کی بھی شکایت کی۔ | اسی بارے میں حسنی مبارک کا انتخاب مسترد10 September, 2005 | آس پاس مبارک: ووٹ کم کامیابی زبردست09 September, 2005 | آس پاس مصر میں صدارتی انتخابات07 September, 2005 | آس پاس مصر: صدارتی امیدوار پر پابندی04 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||