مصر میں صدارتی انتخابات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بدھ کو لوگ ایسے صدارتی الیکشن میں ووٹ ڈال رہے ہیں جس میں صدر کے عہدے کے لیے ایک سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔ ان انتخابات میں موجودہ صدر حسنی مبارک سمیت دس امیدوار میدان میں ہیں لیکن صدر حسنی مبارک کی کامیابی تقریباً یقینی ہے۔ ستتر سالہ حسنی مبارک گزشتہ چوبیس سال سے صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔ صدر حسنی مبارک نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی صورت میں ملک میں سیاسی اصلاحات اور لوگوں کے معیار زندگی بہتر بنانے کے وعدے کیے ہیں۔ قاہرہ سے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ حسنی مبارک نے اپنے دور میں ہمیشہ ہنگامی بنیادوں پر قانون سازی کی ہے جس نے زیادہ تر لوگوں کو سیاست سے علیحدہ کر دیا ہے۔ مصر میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت ’مسلم برادر ہڈ‘ کو الیکشن میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ دو صدارتی امیدواروں نعمان گوما اور ایمن نور نے اپنی مہم میں جمہوریت کے فروغ اور کرپشن کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کو ان انتخابات کی نگرانی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ملک بھر میں دس ہزار کے قریب پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں جو صبح آٹھ بجے سے رات کے سات بجے تک کھلے رہیں گے۔ ان تمام امیدواروں کو آزادانہ طور پر اپنی مہم چلانے کی اجازت دی گئی اور لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے سرکاری ٹیلی ویژن پر بھی موقع فراہم کیا گیا۔ لیکن مبصرین کو یقین ہے کہ صدر حسنی مبارک ہی کامیابی حاصل کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||