BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 June, 2007, 21:09 GMT 02:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں القاعدہ کے مقابل سُنی

الابنار صوبے میں شیوخ پر انحصار کی پالیسی کارگر ہوئی ہے
عراق میں امریکی فوج نے سنی مزاحمت پر قابو پانے اور بالآخر عراق سے باہر نکلنے کے لیے نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے جس کی علامتیں واضح دکھائی ہیں۔

اتوار کو امریکی فوجی کمانڈر اور عراق کے صوبائی اہلکاروں نے صدام حسین کے آبائی قصبے تکریت میں ایک سو تیس سنی قبائلی شیوخ سے ایک ملاقات کی۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں سنی شیوخ کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ ہوا جس کے تحت وہ القاعدہ اور دیگر ریڈیکل مزاحمتی گروپوں کے خلاف اپنے صوبے صلاح الدین کا دفاع کریں گے۔

امریکی فوج کی عراق سے واپسی کی حکمتِ عملی کے سلسلے میں یہ تازہ ترین اقدام ہے جس کے تحت سنی عرب قبائل اور گروہوں کو مسلح کر کے انہیں اختیار دیا جائے بشرطیکہ وہ القاعدہ جیسے شدت پسندوں کے خلاف مزاحم ہوں۔

امریکہ کے اہم کمانڈر میجر جنرل رک لِنچ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج سنی گروہوں کو تربیت دینے اور مسلح کرنے کی سمت رواں ہے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں کی حفاظت کر سکیں۔

’قبائلی شیوخ کہتے ہیں کہ ہمیں مقامی سکیورٹی میں آنے دو۔ اس کی پروا نہیں کہ آپ ہمیں کیا کہتے ہیں، ہمیں صرف درست تربیت اور سامان دے دیں اور ہم اپنے اپنے علاقے کی حفاظت کر لیں گے۔‘

عراق میں امریکی کمانڈروں کو یہ اختیار بھی ہے اور اس کے لیے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے کہ جہاں بھی ممکن ہو وہ مقامی سنی دھڑوں سے معاہدے کریں خواہ ان لوگوں نے امریکی فوج کے خلاف ماضی میں ہتھیار بھی اٹھائے ہوں۔

الانبار کے صوبے میں یہ ترکیب بڑی کامیاب رہی ہے جہاں سنی قبائل نے القاعدہ اور اس کے حلیفوں سے جھڑپیں کی ہیں اور ان کا مقابلہ کیا ہے۔

ماضی میں یہ صوبہ مزاحمت کا گڑھ تھا لیکن اب وہاں تشدد میں بہت زیادہ کمی آئی ہے خصوصاً جب سے مقامی سنیوں نے حکومت کے ساتھ معاہدے کیے اور مقامی پولیس میں بھرتی پر اپنے معتقدین کی حوصلہ افزائی کی۔

ایک حالیہ بیان میں القاعدہ سے منسلک ایک گروپ کی طرف سے سنی شیوخ پر شک کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا گیا: ’ہم ان قبائلی رہنماؤں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس جنگ میں مجاہدین کی مدد کی اور ان کو مسترد کر دیا جنہوں نے اپنا مذہب بیچ دیا اور اپنے لوگوں کو بہت کم قیمت پر فروخت کر دیا۔‘

امریکی فوج کا مقامی سکیورٹی اور شیوخ کی طرف اپنا رخ موڑنا اس بات کا واضح اعتراف ہے کہ کم از کم کچھ علاقوں میں عراقی فوج پر انحصار کی پالیسی کارگر ثابت نہیں ہوسکی۔

سنی قبائل کو با اختیار بنانا تاکہ وہ اپنی حفاظت کر سکیں شاید امریکہ کے نزدیک مسئلے کا ایک حل ہو اگرچہ اس سے عراق میں پائے جانے والے سارے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد