عراق: پانچ امریکی فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں گشت پر نکلے فوجیوں پر ایک حملے کے نتیجے میں پانچ امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکی فوج نے بتایا ہے یہ لوگ سڑک کے کنارے نصب ایک بم کا نشانہ بنے اور اس واقعہ میں سات فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ بم پھٹنے کے بعد فوجیوں پر مسلسل ہلکے ہتھیاروں سے گولیاں برسائی گئیں اور راکٹوں سے گرینیڈ پھینکے گئے۔ ایک امریکی ترجمان کے مطابق حملے کے باوجود جنوبی بغداد میں فرقہ وارانہ تصادم کے خلاف اور علاقے سے شدت پسندوں کو نکال باہر کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ ماہ جون کے دوران اب تک عراق میں نناوے امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ اس قبل مئی میں چھبیس فوجی ہلاک ہوئے تھے جو کہ سنہ دو ہزار چار سے کسی ایک ماہ میں امریکی فوجیوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔ جمعہ کو بغداد کے شمال میں تیل کی ایک پائپ لائن کے نیچے بھی ایک بم پھٹا جس کے نتیجے تیل میں شدید آگ لگ گئی۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے عراقی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ واقعہ دارالحکومت سے پچاس کلومیٹر جنوب میں ہسوا کے مقام پر پیش آیا۔ اس سے قبل جمعرات کو بغداد میں ایک کار بم دھماکے میں بیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ جمعرات کو ہی بصرہ میں سڑک کے کنارے ایک بم دھماکے میں گشت پر نکلے ہوئے تین برطانوی فوجی ہلاک ہو گئے۔اس دھماکے میں ایک فوجی زخمی بھی ہوا۔
تقریباً دس ہزار امریکی اور عراقی فوجیوں نے پچھلے ہفتے ’ایروہیڈ رپر‘ نامی آپریشن شروع کیا تھا جس کای مقصد امریکہ کے مطابق بغداد کے شمال مشرقی صوبے دیالہ سے القاعدہ کے جنگجوؤں کا صفایا کرنا ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں وائٹ ہاؤس نے عراق میں ایک ’دشوار‘ موسمِ گرما کی پیشین گوئی کی تھی جہاں جنگجو ’دہشت کے بڑے واقعات برپا کرنے کے لیے اپنی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں‘۔ ادھر ایک اور واقعے میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ بغداد کے شمالی گاؤں میں پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے جس میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر نے غلطی سے القاعدہ کے ارکان کے طور پر نشاندہی کئے جانے والے گیارہ افراد کو ہلاک اور آٹھ کو زخمی کردیا تھا۔ گاؤں کے رہائشیوں اور بچ جانے والوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک وزخمی ہونے والے تمام افراد محافظ تھے جنہیں مقامی حکومتی اہلکاروں کی رضامندی حاصل تھی۔ امریکی فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ہلاک وزخمی ہونے والوں کو ایک ملیشیا تصور کرتے ہیں جو عراقی پولیس کے پاس جارحانہ کارروائی کرہے تھے۔ تاہم انہوں نے اس بار القاعدہ کے ارکان قرار نہیں دیا۔ |
اسی بارے میں بغداد بس اڈے پر دھماکہ، بیس ہلاک28 June, 2007 | آس پاس ’تشدد میں اضافے کی توقع تھی‘21 June, 2007 | آس پاس افغانستان میں عراقی حربے22 June, 2007 | آس پاس عراق: سنی رہنماؤں سمیت 30 ہلاک25 June, 2007 | آس پاس عراق: بم دھماکے میں 33ہلاک06 May, 2007 | آس پاس عراق، چھ امریکی فوجی ہلاک07 May, 2007 | آس پاس عراق:کاربم دھماکوں میں چودہ ہلاک08 June, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||