’تشدد میں اضافے کی توقع تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے کہا ہے کہ امریکہ کو توقع تھی کہ فوجی کارروائیوں میں اضافے کےساتھ القاعدہ کی کارروائیوں میں تیزی آئے گی۔ ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو میں جنرل پیٹریس نے کہا کہ منگل کو بغداد میں ہونے والا دھماکہ جس میں ستر افراد ہلاک ہوگئے تھے القاعدہ کی کارروائیوں میں تیزی کی ایک مثال ہے۔ جنرل پیٹریس نے کہا کہ اسی کے قریب القاعدہ کے شدت پسند ہر ماہ شام سے عراق میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ چاہتی تھی کہ امریکی فوجیوں کی کارروائیوں میں اضافہ کی خبریں لوگوں میں زیادہ امیدیں پیدا نہ کریں۔ جنرل نے ان خبروں کی تردید کی کہ اس سال ستمبر میں وہ کانگرس کے سامنے جو رپورٹ پیش کرنے والے ہیں وہ عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کا راستہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر رپورٹ دینے کی آخری تاریخ تھی نہ کہ عراق سے فوجوں کے انخلاء کی۔ | اسی بارے میں عراق میں امریکی فوجی کمان تبدیل 10 February, 2007 | آس پاس ’عراق مسئلے کا فوجی حل نہیں‘ 08 March, 2007 | آس پاس بعقوبہ:القاعدہ کے خلاف نیا آپریشن 19 June, 2007 | آس پاس پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ19 June, 2007 | آس پاس عراق:کاربم دھماکوں میں چودہ ہلاک08 June, 2007 | آس پاس بغداد: تین امریکی فوجی ہلاک11 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||