BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 June, 2007, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد: تین امریکی فوجی ہلاک
مزاحمت کار بغداد اور اطراف میں واقع پلوں کو حملوں کا نشانہ بنا چکے ہیں
عراق کے دارالحکومت بغداد کے قریب ایک خودکش دھماکے کے بعد پل گرنے سے تین امریکی فوج ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

بغداد کو عراق کے جنوبی حصوں سے ملانے والی اہم شاہراہ پر واقع پل پر اتوار کو ہونے والے خودکش بم دھماکے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اس ماہ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے۔

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی بغداد کے قریب اہم شاہراہ پر تعمیر پل پر بنی ایک چیک پوسٹ پر تھے کہ اسی پل کے نیچے خودکش بم دھماکہ ہوا۔ واضح رہے کہ عراق میں مزاحمت کاروں کی جانب سے پلوں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔

امریکی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے نے محمودیہ کے مشرق میں چیک پوسٹ ٹوئنٹی پل کے دو میں سے ایک حصے کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ خودکش حملہ آور نےاپنی گاڑی کو پل کو سہارا فراہم کرنے والے ستونوں میں سے ایک سے ٹکرا دیا۔

دھماکے کے فورا بعد امریکی فوج کی چیک پوسٹ ملبے کی صورت اختیار کر گئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ چیک پوسٹ صرف فوجی گاڑیوں کے گزرنے کے لیے کھولی گئی تھی۔

خودکش دھماکے کے بعد امریکی فوجی ملبے میں پھنس کے رہ گئے

دھماکے کے وقت چیک پوسٹ کے قریب سے گزرنے والی ایک نجی سکیورٹی کمپنی آرمر گروپ کے اراکین نے متاثرہ فوجیوں کو نکالنے میں فوجی حکام کی مدد کی۔ گروپ کے ایک رکن جیکی سمتھ کا کہنا تھا کہ اس قدر شدت کا دھماکہ ہوا کہ ہر شخص ُسن ہو کر رہ گیا۔

اسی کمپنی کے ایک اور رکن ڈونلڈ کیمبل نے بتایا کہ انہوں نے ملبے تلے دبی فوج کی گاڑی میں سے ایک زخمی فوجی کو باہر نکالا۔

دریں اثناء امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں واقع صلاح الدین صوبے میں 130 سنی قبائلی رہنما القاعدہ کے خلاف جنگ میں موثر کردار ادا کرنے کو تیار ہو گئے ہیں۔

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ تکریت میں ان سے ملاقات کرنے والے سنی رہنماؤں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کے خلاف عراق حکومت اور سکیورٹی فورسز کی زیادہ سے زیادہ مدد کریں گے۔

’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد