BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 June, 2007, 06:31 GMT 11:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد بس اڈے پر دھماکہ، بیس ہلاک
اطلاعات کے مطابق دھماکے میں کم و بیش چالیس گاڑیاں تباہ ہوئیں
اطلاعات کے مطابق دھماکے میں کم و بیش چالیس گاڑیاں تباہ ہوئیں
عراقی دارالحکومت بغداد میں پولیس کے مطابق ایک کار بم دھماکے میں بیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ بم بغداد کے ایک شیعہ اکثریتی علاقے میں بسوں کے اڈے پر کھڑی ایک کار میں چھوڑا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دھماکہ جمرات کی صبح کے مصروف اوقات میں ہوا اور اس کا نشانہ بسوں کے انتظار میں کھڑے مسافر بنے۔ خدشہ ہے کہ اس میں بیس سے پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کے نتیجے میں تقریباً چالیس گاڑیوں کو، جن میں بسیں بھی شامل ہیں، آگ لگ گئی۔ یہ دھماکہ عراقی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر پیش آیا۔

جمعرات کو ہی بصرہ میں سڑک کے کنارے ایک بم دھماکے میں گشت پر نکلے ہوئے تین برطانوی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس دھماکے میں ایک فوجی زخمی بھی ہوا ہے۔

سکیورٹی آپریشن
 یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکی اور عراقی فوجیں بغداد اور اس کے نواح میں ایک بڑے سکیورٹی آپریشن میں مصروف ہیں۔ کار بم دھماکوں اور فرقہ وارانہ ہلاکتوں کو روکنے کے لیے امریکہ نے بغداد میں مزید ہزاروں فوجی تعینات کئے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکی اور عراقی فوجیں بغداد اور اس کے نواح میں ایک بڑے سکیورٹی آپریشن میں مصروف ہیں۔ کار بم دھماکوں اور فرقہ وارانہ ہلاکتوں کو روکنے کے لیے امریکہ نے بغداد میں مزید ہزاروں فوجی تعینات کئے ہیں۔

تقریباً دس ہزار امریکی اور عراقی فوجیوں نے پچھلے ہفتے ’ایروہیڈ رپر‘ نامی آپریشن شروع کیا تھا جس کای مقصد امریکہ کے مطابق بغداد کے شمال مشرقی صوبے دیالہ سے القاعدہ کے جنگجوؤں کا صفایا کرنا ہے۔

بعقوبہ شہر میں شدید شدید لڑائی جاری ہے جہاں امریکی پچیسویں انفنٹری ڈویژن کے بریگیڈیئر جنرل مِک بیڈنریک کے مطابق کم از کم القاعدہ کے ساٹھ جنگجو مارے گئے ہیں۔

تاہم امریکی کمانڈرز نے انتباہ کیا ہے کہ صرف عراقی دستوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مزاحمت کاروں سے حاصل کئے گئے علاقوں پر اپنا قبضہ قائم رکھ سکیں۔

اس ہفتے کے شروع میں وائٹ ہاؤس نے عراق میں ایک ’دشوار‘ موسمِ گرما کی پیشین گوئی کی تھی جہاں جنگجو ’دہشت کے بڑے واقعات برپا کرنے کے لیے اپنی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں‘۔

ادھر ایک اور واقعے میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ بغداد کے شمالی گاؤں میں پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے جس میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر نے غلطی سے القاعدہ کے ارکان کے طور پر نشاندہی کئے جانے والے گیارہ افراد کو ہلاک اور آٹھ کو زخمی کردیا تھا۔

گاؤں کے رہائشیوں اور بچ جانے والوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک وزخمی ہونے والے تمام افراد محافظ تھے جنہیں مقامی حکومتی اہلکاروں کی رضامندی حاصل تھی۔

امریکی فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ہلاک وزخمی ہونے والوں کو ایک ملیشیا تصور کرتے ہیں جو عراقی پولیس کے پاس جارحانہ کارروائی کرہے تھے۔ تاہم انہوں نے اس بار القاعدہ کے ارکان قرار نہیں دیا۔

خود کش حملے
افغانستان میں عراقی حربوں کا استعمال
’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
پناہ گزین بچہ بڑھتے ہوئے مصائب
عراقی پناہ گزین جائیں تو کہاں جائیں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد