عراق: کار بم حملوں میں سات ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پولیس نے کہا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں دو کار بم دھماکوں کے نتیجے میں کم سے کم سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ دھماکے شیعہ اکثریتی علاقے قدیمیہ میں ہوئے۔ جبکہ شہر کے جنوب میں مِشخاب کے علاقے میں شیعہ راہنما آیت اللہ علی السیستانی کے ایک معاون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ السیستانی کے ایک ترجمان کے مطابق معاون کو ان کے گھر کے باہر نامعلوم افراد نے منگل کی شام گولی ماری تھی۔ منگل کو ہی فلوجہ میں ہونے والے ایک خودکش کار بم حملے میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بغداد میں سکیورٹی بڑھانے کے لیے جس منصوبے پر عمل کیا جا رہا ہے اس میں خاصی دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ دارالحکومت میں چار ماہ سے زیرعمل اس منصوبے کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ بغداد کے مغرب میں شیعہ اور سنی آبادیاں اب بھی پرخطر ہیں۔ اس نئے منصوبے کے تحت بغداد میں بیس ہزار سے زیادہ امریکی فوجیوں کو سکیورٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ مئی کا مہینہ عراق میں امریکی فوجیوں کے لیے انتہائی ہلاکت خیز تھا جس کے دوران ایک سو بیس امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ جبکہ جون کے ابتدائی تین دنوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد چودہ ہو چکی ہے۔ |
اسی بارے میں بغداد ابھی بھی کنٹرول سے باہر05 June, 2007 | آس پاس امریکہ اور ایران: ایک سرد جنگ؟02 June, 2007 | آس پاس فلوجہ: خودکش حملہ، 20 ہلاک31 May, 2007 | آس پاس بغداد:کار بم دھماکہ، انیس ہلاک28 May, 2007 | آس پاس امریکی ہلاکتوں پر تعزیتی دن27 May, 2007 | آس پاس مقتدیٰ الصدر کئی ماہ بعد دیکھے گئے 25 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||