BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 May, 2007, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مقتدیٰ الصدر کئی ماہ بعد دیکھے گئے
مقتدیٰ الصدر کے حامی
مقتدیٰ الصدر عراقی شیعہ آبادی میں مقبولیت حاصل کر چکے ہیں
عراق میں سخت گیر موقف رکھنے والے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کئی ماہ بعد دوبارہ عوام میں دیکھے گئے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مقتدیٰ الصدر امریکی فوجیوں کی بغداد میں کارروائی سے پہلے جنوری میں ایران چلے گئے تھے تاہم اس بات کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی۔


مقتدیٰ الصدر مشرقی عراق میں کوفہ میں اپنے مشیروں اور باڈی گارڈوں کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے آئے۔ وہ شیعہ تنظیم مہدی آرمی کے قائد ہیں۔ عراق میں امریکی کارروائیوں کا ایک ہدف یہ تنظیم بھی ہے۔

مقتدیٰ الصدر کے منظر عام سے غائب ہونے کے دوران ان کے حامی چھ وزراء بھی عراقی کابینہ سے الگ ہو گئے تھے تاکہ وزیر اعظم نوری المالکی پر امریکی فوج کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ سن دو ہزار چار میں مہدی آرمی نے دو بار امریکیوں کے خلاف بغاوت کی تھی۔ مقتدیٰ الصدر اپنی طرز سیاست کی وجہ سے عراقی شیعاؤں میں مقبول ہو چکے ہیں۔

جمعہ کو امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نےعراق جنگ کے لیے100 ارب ڈالر مختص کرنےکی منظوری دے دی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے مذکورہ بل کو عراق سے امریکی فوج کی واپسی کے اوقات کار کے تعین سے مشروط کرنے کی کوشش کی تھی لیکن صدر بش نے اس بل کو ویٹو کردیا تھا۔

جمعرات کو بل کی منظوری کے چند گھنٹوں بعد عراق میں امریکی حکام نے بتایا کہ ان کے پانچ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

 مقتدیٰ الصدر کے منظر عام سے غائب ہونے کے دوران ان کے حامی چھ وزراء بھی عراقی کابینہ سے الگ ہو گئے تھے تاکہ وزیر اعظم نوری المالکی پر امریکی فوج کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ سن دو ہزار چار میں مہدی آرمی نے دو بار امریکیوں کے خلاف بغاوت کی تھی۔ مقتدیٰ الصدر اپنی طرز سیاست کی وجہ سے عراقی شیعاؤں میں مقبول ہو چکے ہیں

اطلاعات کے مطابق مقتدیٰ الصدر نے کوفہ کی ایک مسجد میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیاجس میں انہوں نے امریکہ سے عراق سے نکل جانے کا مطالبہ کیا۔ تقریباً چھ ہزار افراد مسجد میں جمع تھے جو امریکہ، اس کے قبضے اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ عراق واپسی کے لیے انہوں نے اس وقت کا انتخاب کیوں کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ اپنے حریف شیعہ رہنما عبدالعزیز الحکیم کی غیر موجودگی میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم بنانا چاہتے ہوں جو اس وقت علاج کے سلسلے میں عراق سے باہر ہیں۔

امریکہ کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ 33 سالہ مقتدیٰ الصدر انتہائی غیر مستحکم شخصیت کے مالک ہیں جن کے بارے میں ان کے قریبی بھی مشکل سے ہی جانتے ہیں کہ ان کا اگلا قدم کیا ہو گا۔

دوسری طرف امریکی صدر جارج بش کا کہنا ہے کہ عراق میں نئی امریکی سکیورٹی حکمت عملی کے تناظر میں اگلے چند ماہ بہت اہم ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مزاحمت کاروں کے خلاف لڑائی کا دائرہ پھیل سکتا ہے۔

شیعہ رہنما مقتدٰی الصدرمقتدٰی کی’روانگی‘
مہدی ملیشیا کے رہنما ’ایران چلے گئے‘
مقتدی الصدرمقتدی الصدر کون؟
عراق میں مذہب اور سیاست کے وارث؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد