BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 April, 2007, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مقتدیٰ کی کال، لاکھوں کا اجتماع
عراقی شیعہ
احتجاج کی اپیل صدام حکومت کے خاتمے کی چوتھی سالگرہ پر کی گئی
عراق میں لاکھوں کی تعداد میں شیعہ ایک بڑے عوامی احتجاج میں شرکت کے لیے مقدس شہر نجف میں جمع ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ امریکی فوج عراق سے نکل جائے۔

شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے عراقیوں سے نجف پہنچنے کر صدام حکومت کے خاتمے کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر ایک بڑے عوامی احتجاج میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ دس لاکھ سے زائد شیعہ افراد کی اس احتجاج میں شرکت متوقع ہے۔

امریکی فوج کے عراق پر قبضے اور صدام حسین حکومت کے خاتمے کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر بغداد میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

مقتدیٰ الصدر کی اپیل پر ہزاروں شعیہ نجف پہنچ چکے ہیں۔ نجف بغداد سے سو میل جنوب میں واقع ہے۔ بعض مظاہرین نے امریکی جھنڈے بھی نذرِ آتش کیے ہیں اور وہ’ نو، نو، نو امریکہ، مقتدی یس، یس، یس‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے ہاتھوں میں عراقی جھنڈے اٹھا رکھے ہیں۔ شہر میں گاڑیوں کے داخلے پر 24 گھنٹوں کی پابندی لگا دی گئی ہے۔ مظاہرین بسوں میں سوار ہو کر شہر کے مرکز میں پہنچ رہے ہیں۔ پیر کو شہر میں کار بم حملوں کے خدشے کے پیش نظر آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوارن ہر قسم کی ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی ہے۔ بغداد شہر میں چار سال قبل امریکی فوج کے قبضے کے بعد صدام حسین کا ایک بہت بڑا مجسمہ گرایا گیا تھا جو ایک طرح سے صدام حکومت کے خاتمے کا اعلان تھا۔

مقتدی الصدر کا کہنا تھا کہ قبضہ ختم کرانا ہے تو باہر نکلنا ہو گا اور احتجاج کرنا ہو گا

عوامی احتجاج کی اپیل کے لیے مقتدریٰ الصدر خود تو عوام کے سامنے نہیں آئے تاہم اتوار کو ایک بیان کے ذریعے انہوں نے عوامی احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’قبضہ ختم کرانا ہے تو باہر نکلنا ہو گا اور احتجاج کرنا ہوگا‘۔

بیان میں مقتدیٰ الصدر نے عراقیوں کو تنبیہ کی کہ وہ فوجیوں کے قریب نہ جائیں کیونکہ وہ ’دشمن‘ ہیں اور ان کو (امریکی فوج) ختم کرنے کے لیے اپنی پوری قوت لگا دیں۔ انہوں نے تشدد کے خلاف خبردار کرتے ہوئے مہدی آرمی اور عراق کی سکیورٹی فورسز کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے، دشمن کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور آپس میں تصادم سے گریز کی تلقین کی۔

عراق میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اتحادی فوج نے شیعہ ملیشیا اور سنی مزاحمت کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کے بعد مقتدیٰ الصدر عراق چھوڑ کر ایران چلے گئے ہیں۔ دوسری طرف صدر بش امریکی فوج کے تقریبا 28 ہزار اضافی فوجی دستے عراق بھیج رہے ہیں۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ مقتدرالصدر کے حامی ان دنوں خاموش ہیں تاہم سنی مزاحمت کار کافی سرگرم ہیں جس کا ثبوت حال ہی میں کیے جانے والے بم دھماکے ہیں۔ اس سے قبل اتوار کو محمودیہ میں ایک حملے کے نتیجے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ چھ مزید ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

جنگ یا خانہ جنگی
عراقی صورتِ حال کو جنگ کہیں یا خانہ جنگی
امریکی فوجیتین سال میں 3000
عراق میں اب تک 3000 امریکی فوجی ہلاک
نجفنجف میں ہلاکتیں
امریکی عراقی کارروائی کی تصاویر
دیکھیےبدترین تشدد
عراق میں خودکش بم حملوں کی تصاویر
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
جان سِمپسن2007 کیسا ہوگا
بی بی سی، ورلڈ افیئرز ایڈیٹر کی سالِ نو پر نظر
کوفی عنان’صدام سے بدتر دور‘
عنان: عراقی حالات خانہ جنگی سے بھی برے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد