مقتدیٰ کی کال، لاکھوں کا اجتماع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں لاکھوں کی تعداد میں شیعہ ایک بڑے عوامی احتجاج میں شرکت کے لیے مقدس شہر نجف میں جمع ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ امریکی فوج عراق سے نکل جائے۔ شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے عراقیوں سے نجف پہنچنے کر صدام حکومت کے خاتمے کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر ایک بڑے عوامی احتجاج میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ دس لاکھ سے زائد شیعہ افراد کی اس احتجاج میں شرکت متوقع ہے۔ امریکی فوج کے عراق پر قبضے اور صدام حسین حکومت کے خاتمے کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر بغداد میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ مقتدیٰ الصدر کی اپیل پر ہزاروں شعیہ نجف پہنچ چکے ہیں۔ نجف بغداد سے سو میل جنوب میں واقع ہے۔ بعض مظاہرین نے امریکی جھنڈے بھی نذرِ آتش کیے ہیں اور وہ’ نو، نو، نو امریکہ، مقتدی یس، یس، یس‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے ہاتھوں میں عراقی جھنڈے اٹھا رکھے ہیں۔ شہر میں گاڑیوں کے داخلے پر 24 گھنٹوں کی پابندی لگا دی گئی ہے۔ مظاہرین بسوں میں سوار ہو کر شہر کے مرکز میں پہنچ رہے ہیں۔ پیر کو شہر میں کار بم حملوں کے خدشے کے پیش نظر آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوارن ہر قسم کی ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی ہے۔ بغداد شہر میں چار سال قبل امریکی فوج کے قبضے کے بعد صدام حسین کا ایک بہت بڑا مجسمہ گرایا گیا تھا جو ایک طرح سے صدام حکومت کے خاتمے کا اعلان تھا۔
عوامی احتجاج کی اپیل کے لیے مقتدریٰ الصدر خود تو عوام کے سامنے نہیں آئے تاہم اتوار کو ایک بیان کے ذریعے انہوں نے عوامی احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’قبضہ ختم کرانا ہے تو باہر نکلنا ہو گا اور احتجاج کرنا ہوگا‘۔ بیان میں مقتدیٰ الصدر نے عراقیوں کو تنبیہ کی کہ وہ فوجیوں کے قریب نہ جائیں کیونکہ وہ ’دشمن‘ ہیں اور ان کو (امریکی فوج) ختم کرنے کے لیے اپنی پوری قوت لگا دیں۔ انہوں نے تشدد کے خلاف خبردار کرتے ہوئے مہدی آرمی اور عراق کی سکیورٹی فورسز کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے، دشمن کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور آپس میں تصادم سے گریز کی تلقین کی۔ عراق میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اتحادی فوج نے شیعہ ملیشیا اور سنی مزاحمت کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کے بعد مقتدیٰ الصدر عراق چھوڑ کر ایران چلے گئے ہیں۔ دوسری طرف صدر بش امریکی فوج کے تقریبا 28 ہزار اضافی فوجی دستے عراق بھیج رہے ہیں۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ مقتدرالصدر کے حامی ان دنوں خاموش ہیں تاہم سنی مزاحمت کار کافی سرگرم ہیں جس کا ثبوت حال ہی میں کیے جانے والے بم دھماکے ہیں۔ اس سے قبل اتوار کو محمودیہ میں ایک حملے کے نتیجے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ چھ مزید ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ |
اسی بارے میں محمودیہ دھماکے میں اٹھارہ ہلاک08 April, 2007 | آس پاس عراقی شہر دیوانیہ میں لڑائی جاری08 April, 2007 | آس پاس عراق: چھ امریکی فوجی ہلاک02 April, 2007 | آس پاس سویلین ہلاکتوں میں اضافہ: عراق01 April, 2007 | آس پاس چار برطانوی اور پانچ امریکی ہلاک05 April, 2007 | آس پاس فنڈز میں تاخیر پر بش کی تنبیہ04 April, 2007 | آس پاس رمادی خود کش حملہ، 30 ہلاک06 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||