BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 July, 2007, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: ٹرک بم حملہ، 105 ہلاک
کرکک دھماکہ
آمرلی میں دھماکے میں ایک سو پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں
عراق میں سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ ملک کے شمالی علاقے میں ہونے والے ایک ٹرک بم حملے میں ایک سو پانچ افراد ہلاک اور ڈھائی سو زخمی ہوگئے ہیں۔

کرکک کے قصبے آمرلی کے ایک بازار میں ہونے والے اس حملے میں دھماکہ خیز مواد سے بھرے ایک ٹرک کو ایک دکان سے ٹکرا دیا گیا جس کے نتیجے میں دھماکے سے بیشتر افراد موقع پر ہی مارے گئے جبکہ متعدد ملبے تلے دب گئے۔

قریب میں طبی مرکز نہ ہونے کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو زخمیوں کو آمرلی سے تقریباً پینتالیس کلومیٹر دور توز خرماتو لے جانا پڑا۔ کہا جا رہا ہے کہ کچھ زخمیوں نے راستے میں دم توڑا۔

یہ عراق میں ماہِ اپریل کے بعد ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔

اس کے علاوہ عراق میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب ایک دوسرے واقعہ میں دیالہ صوبے میں ایک قہوہ خانے پر خود کش حملے میں بائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ایران کے ساتھ سرحد کے قریب واقع ایک گاؤں کے اس قہوہ خانے پر آنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق کُردوں کی شیعہ آبادی سے ہے۔

ادھر بغداد میں پولیس نے بتایا کہ ایک ہی خاندان کے سات افراد رات کو چھت پر سوتے ہوئے اس وقت مارے گئے جب ایک مارٹر گولہ وہاں گرا۔ اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں ہلاک ہونے والوں میں میاں بیوی، ان کے نو سے سترہ سال کی عمر کے چار بچے اور ایک دوسرا عزیز شامل ہیں۔ واضح رہے کہ بجلی کی ترسیل میں بار بار کے تعطل اور شدید گرمی کی وجہ سے ان دنوں عراق میں زیادہ تر لوگ چھت پر سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔

حکام نے فوجیوں کی ہلا کتوں کے تازہ واقعات کی تصدیق بھی کی ہے

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کرکک دھماکے کا تعلق علاقے میں مستقبل قریب میں متوقع سیاسی تبدیلیوں سے ہو سکتا ہے۔ صوبہ کرکک کی حیثیت کے تعین کے لیے ایک ریفرنڈم اس سال کے آخر میں ہو رہا ہے۔ کرکک اگرچہ عراقی کردستان سے باہر ہے لیکن کئی کردوں کا دعویٰ ہے کہ اسے کردستان کا قومی دارالخلافہ بنایا جانا چاہیے۔

عراقیوں کی ان ہلاکتوں کے علاوہ ملک میں موجود امریکی اور برطانوی حکام نے فوجیوں کی ہلا کتوں کے تازہ واقعات کی تصدیق بھی کی ہے۔تازہ ترین واقعہ میں بصرہ میں ایک برطانوی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ یہ افراد ملک کے جنوبی شہر میں رات بھر جاری رہنے والی لڑائی کے دوران ہلاک یا زخمی ہوئے۔

امریکہ کا کہنا ہے حالیہ دنوں میں اس کے چھ فوجی بھی مارے گئے ہیں جن میں سے چار بغداد میں اور دو جمعرات کو مغربی صوبے انبار میں ہلاک ہوئے۔

’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
’رپورٹ سامنے لائیں‘
عراقی ہتھیار: برطانوی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ
امریکی فوجی’تشدد کرنا جائز ہے‘
’امریکی فوجی عراقیوں پر تشدد کے حامی‘
عراقعراق، انسانی بحران
تشویش ناک ہے۔اقوام متحدہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد