’عراق جنگ کا تناؤ، گیٹس کی آنکھیں نم‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے وائٹ ہاؤس کے حکام پر جنگِ عراق سے پیدا ہونے والے تناؤ کا ذکر کیا ہے۔ مرین کور کی تقریبِ عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے رابرٹ گیٹس کی آنکھیں تقریباً نم ہوگئیں۔ خطاب کے دوران یہ لمحہ اس وقت آیا جب گیٹس جنگِ عراق میں ہلاک فوجیوں کے اہل خانہ کو لکھے گئے اپنے پیغامات کا ذکر کر رہے تھے جن میں گیٹس نے انہیں ’اپنے ملک کے بیٹے اور بیٹیاں‘ قرار دیا ہے۔ جارج بش کی انتظامیہ کے کسی اعلیٰ اہلکار کی جانب سے جذبات کے اظہار کا یہ غیرمعمولی موقع تھا۔ وزیر دفاع نے میجر ڈغ زیمبیئک کا ذکر کیا تھا جنہیں سن 2004 کے فلوجہ آپریشن کے لیے بہادری کا اعزاز دیا گیا تھا لیکن دوسری بار عراق میں تعیناتی کے دوران وہ ہلاک ہوگئے۔ گیٹس نے کہا: ’ہر شام میں ڈغ زیمبیئک جیسے نوجوان امریکیوں کے اہل خانہ کو پیغامات لکھتا ہوں۔‘ جنگِ عراق کے دوران بش انتظامیہ پر متعدد بار الزامات لگائے گئے ہیں کہ اس کے اعلیٰ اہلکار جنگ میں تعینات فوجیوں کے حالات سے کوسوں دور ہیں۔ رابرٹ گیٹس کے جذبات کے اظہار کی اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے وزیر دفاع کے کردار کے انسانی پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ ان کے پیش رو ڈونلڈ رمسفیلڈ پر سن 2004 میں اس بات کا الزام لگایا گیا تھا کہ وہ عراق اور افغانستان میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کو بھیجے جانے والے تعزیتی پیغامات پر خود دستخط نہیں کرتے تھے۔ رمسفیلڈ نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے پیغامات پر مشینوں سے دستخط اس لیے کیے گئے تھے تاکہ جل از جلد فوجیوں کے خاندانوں تک پہنچا جاسکے لیکن اس تنقید کے بعد انہوں نے عہد کیا تھا کہ آئندہ پیغامات پر وہ دستخط خود کرینگے۔
سن 2004 میں صدر جارج بش پر بھی تنقید کی گئی تھی کہ وہ عراق اور افغانستان میں ہلاک شدہ فوجیوں کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوتے ہیں۔ چند ماہ قبل والٹر ریڈ میڈیکل سنٹر میں، جہاں سابق فوجی زیرعلاج ہیں، نامعقول حالات پر بش انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ الزام لگایا گیا تھا کہ اس سنٹر کی زبوں حالی یہ ہے کہ وہاں لال بیگ اور چوہے گھوم رہے ہوتے ہیں اور بیوروکریسی سابق فوجیوں کے علاج میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اس وقت رابرٹس گیٹس نے بھی فوج کے اعلیٰ اہلکاروں پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس ہسپتال کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ناقدین نے یہ بھی کہا تھا کہ صدر جارج بش نے اس ہسپتال کا دورہ کرنے میں کافی تاخیر کی اور جب انہوں نے دورہ کیا تو صرف تصویریں اتروانے کے لیے۔ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے مرین کور کی تقریبِ عشائیہ سے ایسے وقت خطاب کیا ہے جب حزب اختلاف ڈیموکریٹس کے زیرکنٹرول امریکی کانگریس عراق سے افواج کے انخلاء کی اپنی ایک اور کوشش میں ناکام ہوگئی ہے۔ |
اسی بارے میں عراق پالیسی: ’بش کا نیا نسخہ‘10 January, 2007 | آس پاس بُش پیچھےنہیں ہٹیں گے08 January, 2007 | آس پاس بش کو نینسی پلوسی کی وارننگ07 January, 2007 | آس پاس پھانسی داخلی معاملہ: المالکی06 January, 2007 | آس پاس عراق میں مزید فوج بھیجنے کی مخالفت06 January, 2007 | آس پاس عراق: امریکی ہلاکتیں’تین ہزار‘31 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||