’صومالیہ ایک انسانی المیہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ میں جہاں ملک کے جنوبی قصبے دنسور پر قبضے کے لیے شدید لڑائی جاری ہے ریڈ کراس تنظیم نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب سے بچنے کے لیے لاکھوں افراد نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ ریڈ کراس نے کہا ہے کہ لمبی قحط سالی کے بعد آنے والے سیلاب اور ملک میں کئی سال سے جاری مسلح کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال نے صومالیہ کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ بنا دیا ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ میلوں تک پانی ہی پانی نظر آتا ہے اور کئی جگہوں پر لوگوں نے مگرمچھوں اور گینڈوں سے بچنے کے لیے درختوں پر پناہ لے رکھی ہے۔ اسی دوران یونین آف اسلامک کورٹس نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے عبوری حکومت کی فوجوں کے حملے کو پسپا کر دیا ہے۔ عبوری حکومت کے نائب وزیر دفاع نے جنوبی قصبے میں شدید لڑائی ہونے کا اعتراف کیا ہے تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس لڑائی میں ایتھوپیا کی افواج بھی شریک تھیں۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس لڑائی میں اتھوپیا کی افواج کو دیکھا ہے۔ | اسی بارے میں جنگیں، 43 ملین بچے سکول سے باہر12 September, 2006 | آس پاس صومالیہ کے صدر حملے میں بچ گئے18 September, 2006 | آس پاس صومالیہ کے شہر پر ایتھوپیا کا قبضہ 23 July, 2006 | آس پاس اسلامی رہنما سے ’بات چیت نہیں‘27 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||