صومالیہ کے شہر پر ایتھوپیا کا قبضہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایتھوپیا کی فوج نے صومالیہ کے دوسرے شہر میں اپنی فوج پہنچا دی ہے۔ ایتھوپیا صومالیہ کی عبوری حکومت کا حامی ہے جس کو اسلامی گروپ، صومالی سپریم اسلامک کورٹس کونسل سے شکست کا سامنا ہے۔ اسلامی گروپ، صومالی سپریم اسلامک کورٹس کونسل نے ایک مہینہ پہلے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سمیت جنوبی صومالیہ پر قابضہ کر لیا تھا۔ صومالیہ کے اسلامی رہنما شیخ حسن داہر اویس نے کہا ہے کہ ایتھوپیا کو صومالیہ میں نہیں آنے دیں گے اور صومالیہ کےمسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ایتھوپیا کی فوج کے خلاف ’جہاد‘ کریں۔ اطلاعات کے مطابق ایتھوپیا کی فوج نے اپنی سرحد سے دو سو کلومیٹر اندر صومالیہ کے شہر واجد کے ہوائی اڈے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ہوائی جہازوں کے ذریعے مزید فوج کو صومالیہ میں لانا شروع کر دیا ہے۔ عرب لیگ نے صومالیہ اور ایتھوپیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہیں۔ عرب لیگ کے سیکریڑی جنرل نے کہا ہے کہ وہ افریقی اتحاد سے اس مسئلے کو حل کرانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ ایتھوپیا کی حکومت نے بارہا کہا ہے کہ اگر صومالیہ کی عبوری حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنی فوج صومالیہ میں بھیج سکتا ہے۔ایتھوپیا ہمیشہ سے صومالیہ کے صدر عبداللہ یوسف کا حمایتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایرٹیریا صومالیہ کے اسلامی رہنما شیخ حسن داہر کا حمایتی ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ شیخ حسن داہر اویس کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ جبکہ شیخ حسن داہر اس کی تردید کرتے ہیں۔ شیخ حسن داہر جو صومالیہ کی فوج کے سابق کرنل ہیں، صومالیہ میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صومالیہ ایک مسلمان قوم ہے اور اس کے سو فیصد باشندے مسلمان ہیں۔اس لیئے وہاں قوانین قرآن اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات پر مبنی ہونے چاہیں۔ شیخ اویس داہر کا کہتے رہے ہیں کہ وہ دہشت گرد نہیں لیکن اگر اپنے مذہب کی سختی سے پیروی اور اسلام سے محبت انہیں دہشت گرد بنا دیتی ہے تو انہیں یہ خطاب بھی قبول ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ صومالیہ میں اگر اسلامی گروپوں کی حکومت بنی تو انہیں القاعدہ استعمال کر سکتی ہے۔ | اسی بارے میں صومالیہ میں ’جہاد‘ کا اعلان 22 July, 2006 | آس پاس اسلامی رہنما سے ’بات چیت نہیں‘27 June, 2006 | آس پاس ’ورلڈ کپ میچ دیکھنے پر قتل‘05 July, 2006 | آس پاس ’صومالیہ میں آفت کا خدشہ ہے‘19 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||