صومالیہ میں ’جہاد‘ کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ کے اسلامی رہنما شیخ حسن داہر اویس نے صومالیہ کےمسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ایتھوپیا کی فوج کے خلاف ’جہاد‘ کریں۔ اسلامی گروپ، صومالی سپریم اسلامک کورٹس کونسل، ایک مہینہ پہلے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سمیت جنوبی صومالیہ قابض ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق صومالیہ کے پڑوسی ملک ایتھوپیا نےصومالیہ کی عبوری حکومت کی مدد کے لیے اپنی فوج صومالیہ میں بھیجی ہے۔ ایتھوپیا نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس کی فوج صومالیہ میں داخل ہو چکی ہے۔ البتہ بی بی سی کے نامہ نگار نے ایتھوپیا کی فوج صومالیہ کےشہر بیتو میں دیکھی ہے۔ ایتھوپیا کی حکومت نے بارہا کہا ہے کہ اگر صومالیہ کی عبوری حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنی فوج صومالیہ میں بھیج سکتا ہے۔ایتھوپیا ہمیشہ سے صومالیہ کے صدر عبداللہ یوسف کا حمایتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایرٹیریا صومالیہ کے اسلامی رہنما شیخ حسن داہر کا حمایتی ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ شیخ حسن داہر اویس کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ جبکہ شیخ حسن داہر اس کی تردید کرتے ہیں۔ شیخ حسن داہر جو صومالیہ کی فوج کے سابق کرنل ہیں، صومالیہ میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں۔ قائم مقام صدر عبداللہ یوسف سیاسی اسلام کے سخت مخالف ہیں۔ صومالیہ میں پچھلے پندرہ سال سے کوئی مؤثر قومی حکومت نہیں بن سکی ہے۔ شیخ اویس ملک میں اسلامی شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صومالیہ ایک مسلمان قوم ہے اور اس کے سو فیصد باشندے مسلمان ہیں۔اس لیئے وہاں قوانین قرآن اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات پر مبنی ہونے چاہیں۔ شیخ اویس داہر کا کہتے رہے ہیں کہ وہ دہشت گرد نہیں لیکن اگر اپنے مذہب کی سختی سے پیروی اور اسلام سے محبت انہیں دہشت گرد بنا دیتی ہے تو انہیں یہ خطاب بھی قبول ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ صومالیہ میں اگر اسلامی گروپوں کی حکومت بنی تو انہیں القاعدہ استعمال کر سکتی ہے۔ | اسی بارے میں اسلامی رہنما سے ’بات چیت نہیں‘27 June, 2006 | آس پاس ’ورلڈ کپ میچ دیکھنے پر قتل‘05 July, 2006 | آس پاس ’صومالیہ میں آفت کا خدشہ ہے‘19 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||