صومالیہ کے صدر حملے میں بچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ کے عبوری صدرعبداللہی یوسف پارلیمنٹ کے سامنے ایک حملے میں بچ گئے لیکن صدر کے بھائی کے سمیت گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عبداللہی یوسف پر کار بم اس وقت ہوا جب وہ بیدو کے علاقے میں پارلیمنٹ سے باہر نکل رہے تھے۔ صدر اس حملے میں بال بال بچ گئے لیکن ان کے بھائی اس حملے میں ہلاک ہو گئے۔ پہلے بم دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد دوسرا دھماکہ ہوا جس کی لپیٹ میں پانچ گاڑیاں آ گئیں۔ اسلامی گروپ، صومالی سپریم اسلامک کورٹس کونسل نےصومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سمیت جنوبی صومالیہ پر قابضہ کر رکھا ہے اورعبداللہی یوسف پڑوسی ملک ایتھوپیا کے تعاون سے اس اسلامی گروپ کا قبضہ ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عبداللہی یوسف کی عبوری حکومت کے زیر اثر صرف بیدوا اور اس کے اردگرد کا کچھ علاقہ ہے۔ مغربی دنیا بالخصوص امریکہ الزام لگاتا رہا ہے کہ اسلامی گروپ، صومالی سپریم اسلامک کورٹس کونسل، کا القاعدہ سے تعلق ہے۔ اسلامی کورٹس کونسل امریکہ کے اس الزام کی تردید کرتی ہے۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے ہیں جب ارکان اسمبلی نے نئی کیبنٹ کی منظوری دینے کے لیے اجلاس شروع کیا۔ اس اجلاس میں یہ بات بھی زیرِ بحث لائی جانی تھی کہ کیا اسلامی کورٹس کی یونین کو بھی حکومت میں حصہ دینا چاہیے۔ ان دھماکوں کے باوجود ارکانِ اسمبلی نے ایک گودام میں اپنا اجلاس جاری رکھا اور نئی حکومت کے لیے لائحہ عمل منظور کیا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں سے صومالیہ میں پہلے سے موجود کشدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ صومالیہ میں پچھلے پندرہ سالوں سے کوئی قومی حکومت نہیں ہے۔ دس دن قبل محمد ابراہیم حبسید نے، جو کہ بیدوا کے علاقے کو اپنے زیرِ اثر رکھتے ہیں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اگر حکومتی ارکان اپنی مرضی سے اس علاقے سے نہ گئے تو انہیں ان کے جنگجو جوان زبردستی وہاں سے نکال دیں گے۔ | اسی بارے میں ’صومالیہ میں آفت کا خدشہ ہے‘19 June, 2006 | آس پاس اسلامی رہنما سے ’بات چیت نہیں‘27 June, 2006 | آس پاس ’ورلڈ کپ میچ دیکھنے پر قتل‘05 July, 2006 | آس پاس صومالیہ میں ’جہاد‘ کا اعلان 22 July, 2006 | آس پاس صومالیہ کے شہر پر ایتھوپیا کا قبضہ 23 July, 2006 | آس پاس صومالیہ: اطالوی راہبہ گولی کا نشانہ17 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||