صومالیہ: اطالوی راہبہ گولی کا نشانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو میں ایک بزرگ اطالوی راہبہ اور ان کے محافظ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ مقتول راہبہ کا نام نہیں بتایا گیا۔ ان کی عُمر ستر سال سے زیادہ تھی۔ حملہ آوروں نے بچوں کے ایک ہسپتال کے باہر راہبہ کو تین بار پیچھے سے گولی کا نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ مقتول راہبہ روانی سے صومالی زبان بولتی تھیں اور اٹلی کی سابقہ نو آبادی صومالیہ میں کیتھولک فرقے کی سب سے پرانی غیر ملکی رکن تھیں۔ ویٹیکن کے ترجمان نے کہا کہ یہ قتل ’ہولناک اقدام‘ ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی یہ کسی رجحان کی عکاسی نہیں کرتا۔ یونین آف اسلامک کورٹس کا، جس کے پاس موگادیشو کا کنٹرول ہے، کہنا ہے کہ راہبہ کے قتل کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کیتھولک فرقے کے سربراہ پاپائے روم بینیڈکٹ سولہ نے گزشتے ہفتے جرمنی میں ایک تقریر میں چودھویں صدی کے ایک عیسائی بادشاہ کے پیغمبر اسلام کے بارے میں منفی بیان کا حوالہ دیا تھا جس کے بعد عالم اسلام میں احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ | اسی بارے میں ’ورلڈ کپ میچ دیکھنے پر قتل‘05 July, 2006 | آس پاس اسلامی عسکریت پسندوں کی کامیابی14 June, 2006 | آس پاس صومالیہ کے شہر پر ایتھوپیا کا قبضہ 23 July, 2006 | آس پاس جنگیں، 43 ملین بچے سکول سے باہر12 September, 2006 | آس پاس اسلامی رہنما سے ’بات چیت نہیں‘27 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||