’قحط نہیں خوراک کی کمی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نائیجر کے صدر ممدو تانجا نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ ان کا ملک قحط کا شکار ہے۔ ’نائیجر کے لوگ صحتمند دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ آپ خود دیکھ سکتے ہیں،‘ صدر نے بی بی سی کو بتایا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ملک کے کچھ علاقوں میں بارش کی کمی اور ٹڈی دل کے حملوں کے باعث خوراک کی کمی ہے لیکن یہ ان کے ملک کے لئے کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں ہے۔ مسٹر تانجا نے کہا کہ قحط کی بات کرنے سے اپوزیشن پارٹیاں اور اقوام متحدہ کی ایجینسیاں سیاسی اور مالی مفاد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ عالمی ادارہِ خوراک نے اس بات کی تردید کی ہے کہ نائیجر میں قحط کی صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔’ہم نے قحط نہیں بلکہ خوراک کی کمی کی بات کی ہے،‘ عالمی ادارہِ خوراک کے ترجمان گریگ بیرو نے بی بی سی کو بتایا۔ مسٹر تانجا نے کہا کہ اگر یہ مسلہ اتنا سنگین ہوتا تو شہروں میں جھونپڑ پٹیاں آباد ہوجاتیں اور لوگ ہمسایہ ممالک میں ہجرت کر جاتے اور گلیوں میں بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امدادی ایجینسیاں اپنے مقاصد کی خاطر صورتحال کو بڑھا چرھا کر پیش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو پینتالیس ملین ڈالر کی امدادی رقم میں سے صرف ڈھائی ملین ڈالر کیوں موصول ہوا ہے۔ عالمی ادارہ خوراک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امدادی رقم مکمل طور پر حکومتوں کو نہیں دی جاتی بلکہ دیگر اداروں کو بھی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ نائیجر میں خوراک کی کمی اکثر واقع ہوتی ہے لیکن کہا کہ پچھلے برس کی فصل ’خاص طور پر‘ بری تھی۔ اقوام متحدہ کے اندازہ کے مطابق نائیجر کی بارہ ملین آبادی میں سے تین ملین کو خوراک میں کمی کا سامنا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بتیس ہزار بچوں کو خوراک میں کمی کے باعث موت کا سامنا ہے۔ صدر تانجا نے کہا کہ حکومت نے بحران کے حل کے لئے خوراک کی قیمتوں میں کمی کردی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||