30 افریقی ممالک کی کانفرنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افریقہ کے تیس ممالک کے صدور لبیا پہنچ گئے ہیں جہاں وہ بھوک اور بیماری کے خلاف اس ایجنڈے پر اتفاق کریں گے جو سکاٹ لینڈ میں ہونے والے جی ایٹ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ لبیا کے شہر سرتی سے جہاں افریقی صدور جمع ہوئے ہیں، بی بی سی کے نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ اس اجلاس کا مقصد صرف یہ دیکھنا نہیں ہے کہ مغربی دنیا افریقہ کی مدد کیسے کر سکتی ہے بلکہ برِ اعظم افریقہ کو متحد اور مضبوط کرنا بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ لبیا کے رہنما معمر قدافی اس افریقی کانفرنس کا اہتمام کر رہے ہیں جس سے اقوامِ متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان بھی خطاب کریں گے۔ افریقی ممالک کے صدور جن معاملات پر بات چیت کریں گے اور کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے ان میں افریقہ میں ملکی تنازعات کو روکنے کے لیے افریقی فوج کے قیام اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں دو افریقی نشستوں کا مسئلہ بھی ہے۔ صومالیہ کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’افریقہ کے پاس عزم تو ہے لیکن ذرائع نہیں ہیں۔‘ بدھ کے روز جی ایٹ اجلاس میں افریقہ کی صورتِ حال پر بات چیت ہوگی۔ ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’جی ایٹ اجلاس افریقہ کو آزادانہ تجارتی ماحول فراہم کرنے پر رضا مند ہوتا نظر نہیں آتا۔‘ گزشتہ روز دنیا کے دس بڑے شہروں میں افریقہ سے غربت مٹانے کی مہم کے سلسلے میں براہِ راست موسیقی کی کنسرٹس منعقد کی گئی تھیں جن میں پوپ اور راک میوزک کے عالمی شہرت یافتہ ستاروں نے اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ ان شوز کو دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے دیکھا۔ برطانیہ کے وزیرِ خزانہ گارڈن براؤن کہتے ہیں کہ افریقہ کے طویل المعیاد مستقبل کے لیے صرف جی ایٹ اجلاس سے کام نہیں چلے گا بلکہ دنیا کو اس سے زیادہ کرنا پڑے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||