BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 June, 2005, 16:07 GMT 21:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغرب کی نظرعنایت افریقہ پر

News image
براعظم افریقہ سنگین بدعنوانیوں کی دلدل میں دھنس گیا ہے
پچھلے چند ماہ سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ جیسے مغربی دنیا نے اچانک اپنا قبلہ بدل دیا ہے اور تمام تر نظر عنایت بر اعظم افریقہ پر جم گئی ہے۔

یوں تو نئے قبلہ کی سمت کا تعین صدر بش نے اس وقت کیا تھا جب جولائی سن دو ہزار تین میں انہوں نے افریقہ کا دورہ کیا تھا لیکن ان کا یہ دورہ صرف ان ملکوں تک محدود تھاجو تیل اور گیس پیدا کرتے ہیں۔

لہذا یہ کھلم کھلا تیل کی جستجو کاسفر تھا۔ افریقہ کے ان ملکوں سے امریکہ خام تیل کی اپنی کل درآمدات کا پندرہ فیصد تیل خرید تا ہے۔

اگلے دس برس میں وہ ان ملکوں سے اپنی ضرورت کا پچیس فیصد تیل حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ اسی دورے میں صدر بش نے کہا تھا کہ افریقہ آخری بڑی عالمی منڈی ہے۔

صدر بش کے اس افریقی دورہ کے ایک سال بعد برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے افریقہ کی اقتصادی نجات کے لئے ایک کمیشن قائم کیا اور حالیہ برطانوی انتخابات کے موقع پر اس کمیشن برائے افریقہ کی رپورٹ پر ڈونگرے برسائے گئے جس میں تجویز پیش کی گئی کہ افریقہ کے غریب ملکوں کے قرضے سو فیصد معاف کر دئیے جائیں اور ان ملکوں کو ہر سال پچاس ارب ڈالر کی امداد فراہم کی جائے۔

ٹونی بلئیر کی کوشش یہ ہے کہ اگلے مہینہ اسکاٹ لینڈ میں صنعتی طور پر ترقی یافتہ آّٹھ ملکوں کے سربراہوں کا جو اجلاس ہورہا ہے اس کے ایجنڈے پر سر بام یہی معاملہ رہے۔ اسی مقصد کے لئے ٹونی بلئیر نے پچھلے دنوں واشنگٹن ، ماسکو، برلن اور پیرس کے دورے کئے ہیں۔

سوال یہ کیا جارہا ہے کہ آخر ٹونی بلئیر کو اچانک کیوں افریقہ کے لئے یہ ہڑک اٹھی ہے اور مغرب کا قبلہ اور نظر عنایت افریقہ کی سمت کیوں بدل رہی ہے؟
کوئی ایک تشفی بخش جواب تو ابھی تک کہیں سے نہیں ملا ہے لیکن اس بارے میں مختلف آراء ظاہر کی جارہی ہیں۔

ایک رائےتو یہ ہے کہ اس پورے عمل کا مقصد امریکہ اور برطانیہ کے رہنماؤں کی اپنی امیج اور معتبری کے وہ داغ دھونا ہیں جو باطل جواز کی بنیاد پر عراق کی تباہ کن جنگ کے باعث ان پر لگے ہیں اور ان ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے جو اس جنگ کے مقاصد کے حصول میں انہیں اٹھانی پڑ رہی ہیں- اور اس وقت جب کہ جنگ کے بعد بھی عراق میں خونریزی جاری ہے، کوشش ان کی اپنی شفیق، کریم اور بہی خواہ شبیہ پیش کرنے کی ہے۔

ایک رائے یہ ہے کہ سویت یونین کی مسماری اور سرد جنگ کے اختتام کے بعد افریقہ کی اپنی فوجی اہمیت گنوا دینے پر امریکہ اور یورپ نے پچھلے پندرہ برسوں میں افریقہ سے جو بے اعتنائی برتی ہے اس کی وجہ سے یہ براعظم اقتصادی بد بحالی، آمرانہ حکمرانی اور سنگین بدعنوانیوں کی دلدل میں دھنس گیا ہے جس کی ایک بڑی ذمہ داری مغرب پر عائد ہوتی ہے۔

ایک رائے یہ ہے کہ دراصل یہ امریکہ اور یورپ کے ضمیرکا اظہار ملامت ہے اوران کے ان اعمال پر جو انہوں نے اپنے مفادات کی خاطر افریقہ میں نسلی کشمکش اور خانہ جنگیوں کی آگ بھڑکائی ہے۔

جس طرح اب چالیس سال بعد بیلجئیم نے سن باسٹھ میں کانگو میں مقبول رہنمالومبا کے قتل میں ملوث ہونے کااعتراف کیا ہے اور برطانیہ کےدفتر خارجہ نے وہ دستاویزات عام کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ تیس سال پہلے یوگنڈا میں صدر ملٹن ابوٹے کی حکومت کا تختہ الٹنے میں برطانیہ اور اسرائیل نے عیدی امین کی مدد کی تھی-

اسی طرح ممکن ہے کہ بہت جلد امریکہ اور برطانیہ یہ اعتراف کرلیں کہ روانڈا میں بارہ سالہ خانہ جنگی کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا، جس کے دوران پچاس لاکھ افراد مارے گئے کیونکہ وہاں سونے اور دوسری معدنیات پر قبضہ کے لئے فرانس اور اس کے حامیوں کے ساتھ کشمکش تھی۔

ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو، سئیرالیون اور صومالیہ کی خانہ جنگیوں میں بھی بیرونی طاقتوں کا ہاتھ رہا ہے۔

ایک رائے یہ ہے کہ افریقہ کی اقتصادی نجات کی تحریک کے پس پشت خود مغرب کے اپنے اقتصادی مفادات کارفرما ہیں۔

اس حقیقت کا اب سب اعتراف کرتے ہیں کہ مغرب کی کثیرالاقومی کمپنیوں کے مفادات کی خاطر عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے افریقی ممالک پر دباؤ ڈالا کہ وہ اناج کی فصلیں ترک کر کے کافی، تمباکو، کپاس اور ربر کاشت کریں۔ جن کا تمام تر فائدہ مغرب کے سرماکاروں کو ملا۔

اناج کی فصلوں کے خاتمہ کےنتیجہ میں خوراک کی قلت نے ایک دائمی قحط کی صورت حال پیدا کردی تھی۔ افریقہ کے جو کاشت کار اناج کی فصلوں پر ڈٹے رہے ان کی کمر یورپ کے سستے اناج نے توڑ دی جو امداد کے بہانے افریقہ میں بے دھڑک درآمد کیا گیا- یہ غریب کاشتکار یورپی اناج کی قیمتوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔

کیش کراپس یعنی نقدی فصلوں کی مغربی حکمت عملی نے افریقہ میں جو تباہی مچائی اس کی ایک نمایاں مثال موزمبیق کی ہے جہاں کاجو کی پیداوار اور اس کی صنعت پر لاکھوں لوگوں کے روزگار کا دارومدار تھا۔

حکومت نے اس صنعت کے تحفظ کے لئے محصول عائد کئے تھے لیکن عالمی بنک نے موزمبیق کو امداد دینے کے لئے یہ شرط لگائی کہ وہ یہ محصول ختم کردے اور آزاد تجارت کو فروغ دے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کثیر الاقومی کمپنیوں نے پالا مار لیا اور موزمبیق کا خام کاجو بڑے پیمانہ پر بیرون ملک برآمد کرنا شروع کردیا۔ جس کی وجہ سے کاجو کی صنعت ٹھپ پڑ گئی اور سنگین بے روز گاری پھیل گئی۔

یہ عجیب وغریب بات ہے کہ افریقہ کے جنوب اور مغرب میں سونے، ہیروں اور تانبے کی بڑی بڑی کانیں ہیں اورتیل کے وسیع ذخائر ہیں لیکن یہ صنعتیں بہت کم افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔ منافع، سارے کا سارا کثیر الاقومی کمپنیاں بٹور لے جاتی ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ مغربی ممالک نے افریقی ملکوں کو بڑے پیمانہ پر امداد دی ہے خاص طور پر سر دجنگ کے زمانہ میں- خود عالمی بنک نے پچھلے چالیس سال میں افریقہ کو ایک ہزار ارب ڈالر کی مالی امداد دی ہے لیکن یہ امداد یا تو اقتصادی پالیسیوں میں تبدیلی کے لئے دباؤ ڈالنے کے مقصد کی خاطر استعمال کی گئی یا پھر براعظم کے آمر حکمرانوں کے استبداد کو بڑھاوا دینے کے لئے پولس اور فوج پر خرچ کی گئی یا بدعنوانی کی نذر ہو گئی۔

یہی وجہ ہے اب جبکہ افریقہ کی امداد دو گنی کرنے کی تجویز پیش کی جارہی ہے بہت سے لوگ سابقہ تجربہ کی بناء پر اس کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ یہ امداد افریقی حکمرانوں کی جیبوں میں چلی جائے گی۔

مالی امداد کے مخالفوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مقصد کے لئے جمہوریت کی شرط عائد کرنا بے سود ہے۔ اس سلسلہ میں گھانا کی مثال دی جاتی ہے جہاں اس شرط پر امداد دی گئی تھی کہ ملک میں جلد از جلد انتخابات کرائے جائیں گے۔

وعدے کے مطابق انتخابات تو ہوئے لیکن اس سے پہلےساری کی ساری امداد سرکاری ملازمین اور فوج کے افسروں کی تنخواہوں میں بے تحاشہ اضافے پر لٹا دی گئی۔

بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے مہینہ آٹھ ملکوں کے سربراہوں کےاجلاس میں برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلئیر اپنے قریبی ساتھی، صدر بش اور دوسرے سربراہوں کو افریقہ کے لئے امداد دوگنی کرنےاور افریقہ کے غریب ملکوں کے قرضے سو فیصد معاف کرنے کی تجویز پر راضی کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، افریقہ کی امداد کے بارے میں اس کا مؤقف ٹونی بلئیر سے مختلف ہے اور وہ امداد میں اضافے پر آمادہ نہیں- امریکا محض افریقہ کے تیل اور گیس میں دلچسپی رکھتا ہے اور بڑے پیمانہ پر انرجی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے اور اسی کے ساتھ اسلحہ فروخت کرنا چاہتا ہے۔

فرانس نے جس کی افریقہ میں متعدد نوآبادیاں رہی ہیں بر اعظم کےملکوں کی اقتصادی امداد کے لئے رقم کے حصول کی غرض سے دنیا بھر کی ایرلائینز پر ایک خاص ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے لیکن امریکااس کا سخت مخالف ہے۔

افریقہ کے قرضوں کی یکسر معافی اور امداد دوگنی کرنے کی تجویز پر جاپان بھی امریکا کی طرح پوری طرح سے متفق نہیں ہے۔

غرض اسکاٹ لینڈ میں آٹھ سربراہوں کا اجلاس ٹونی بلئیر کے لئے ایک اہم سیاسی آ زمائش ہوگا خاص طور پر اس وقت جبکہ وہ یورپ کے بجٹ کے مسئلہ پر فرانس اور جرمنی کے ساتھ معرکہ میں الجھے ہوئے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد