BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 July, 2005, 00:50 GMT 05:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کئی شہر، لاکھوں لوگ، لائیو شوز
News image
دس لاکھ سے زیادہ افراد نے دنیا کے مختلف شہروں میں موسیقی کے شوز کیے ہیں تا کہ امیر ترین ممالک پر افریقہ میں غربت کے خاتمے کی کوششوں میں اضافے کے لیے زور دیا جا سکے۔

مختلف عالمی شہروں میں لائو ایٹ کے پروگرام آخری خبریں آنے تک جاری تھے جس میں راک اور پوپ میوزک میں عالمی شہرت کے گلوکار اور فنکار حصہ لے رہے ہیں بلکہ لاکھوں کی تعدا میں لوگ بھی شریک ہیں۔

ان میں یوٹو، پال میکارٹنی، میڈونا، ایلٹن جون، سٹیو ونڈر، آر ای ایم، رابی ولیمز اور پنک فلائڈ شامل ہیں۔

تاہم افریقہ کے گلوکاروں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایک نزع پیدا ہو گئی تھی اور ایک حد تک اس کے ازالے کے لیے لندن میں ایک چھوٹا شو منعقد کیا گیا۔

جن شہروں میں موسیقی کے شوہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں ان میں لندن کے علاوہ برلن، پیرس، روم، ماسکو، جوہانسبرگ اور فلاڈیلفیا بھی شامل ہیں۔ لوگوں نے یہ شو بڑی تعداد میں ٹی وی پر بھی دیکھے ہیں۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ صرف لندن کے پروگرام میں دس لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔ لائو ایٹ کے آیریش منتظم باب گیلڈاف نے اس موقع پر سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا یہ دن ان لوگوں کے لئے امیدوں اور امکانات کا دن تھا جو ان دونوں چیزوں سے محروم ہیں۔

جوہانسبرگ میں ہونے والے لائو ایٹ کے پروگرام میں نیلسن منڈیلا بھی آئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آٹھ بڑوں کے سربراہی اجلاس میں میں ان ملکوں کے رہنماء کوئی اقدام کرنے میں ناکام رہے تو وہ انسانیت کے خلاف ایک جرم کے مرتکب ہون گے۔

لیکن جہاں دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ آج افریقہ میں غربت کی طرف مبذول ہے وہاں اقوام متحدہ کے دو اداروں کی ایک نئی رپورٹ نے چودہ ایشیائی ممالک کی غربت کو نمایاں کیا ہے۔ان ملکوں میں افغانستان اور بنگلہ دیش اور نیپال بھی شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ممالک دنیا میں سب سے کم ترقی یافتہ ہیں۔ حالانکہ یہ ملک اس خطے میں واقع ہیں جہاں عمومًا ترقی اور خوشحالی میں اضافہ ہوا ہے۔اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان ممالک کو ترقیاتی امداد بہت کم دی جاتی ہے اور ان کے قرضے بھی کم ہی معاف ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک کے قرضے معاف کرنے اور ان کی برآمدات پر سے ٹیرف یا کوٹے ہٹانے کی ضرورت ہے۔ اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو ان ممالک میں غربت اور بیروزگاری بڑھ جائے گی ، عوام کی صحت کے علاوہ ماحولیات پر بھی برا اثر پڑے گا اور غیر قانونی ہجرت کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد