جی ایٹ: مظاہرین بھی تیار، رہنما بھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کچھ افریقی ممالک کے ان مطالبوں کی گونج میں کہ ’افریقی ملکوں کو بھکاری نہ سمجھا جائے‘ اور یہ کہ ’ان کا سارے کا سارا قرض ختم کر دیا جائے‘، سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں جی ایٹ کا سربراہی اجلاس بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں برطانیہ نے افریقہ سے غربت کے خاتمے اور عالمی ماحولیات میں بہتری پیدا کرنے کے مسائل کو ایجنڈے میں سرِ فہرست رکھا ہے۔تا ہم امریکہ کے صدر بش نے ماحولیات کے ضمن میں کیوٹو معاہدے کی طرز پر کسی دوسرے معاہدے کے لیے امریکی حمایت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ جی ایٹ عالمی سربراہی اجلاس سے قبل لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے اپنے آبائی شہر سرتے میں افریقی یونین کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ غریب ممالک کو دی جانے والی امداد کے ساتھ شرائط لگانا بند کر دیں۔ انہوں نے کہا افریقی ممالک بھکاری نہیں ہیں اس لیئے زور خیرات پر نہیں ہونا چاہیے۔ افریقی رہنماؤں کی کانفرنس کا مقصد جی ایٹ اجلاس کے لیے ایجنڈہ طے کرنا تھا۔ نائیجیریا کے اوباسنجو نے جوافریقی یونین کے موجودہ چیرمین بھی ہیں، دیگر صدور سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی ایٹ ممالک کو چاہیے کہ وہ کہیں کہیں رعایتیں دینے کی بجائے سب افریقی ممالک کا تمام کا تمام قرض ختم کر دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افریقہ میں مستقبل میں زیادہ شفاف اور بہتر حکومتیں ہوں گی۔ خیال ہے کہ جب یہ کانفرنس شروع ہوگی تو ہزاروں مظاہرین وہاں موجود ہوں گے۔ کسی بھی ناخشگوار صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے پولیس نے سخت ترین حفاظتی اقدامات کر لیے ہیں۔ امریکی صدر جارج بش پہلے ہی تجارتی معاہدوں اور آب و ہوا کی تبدیلیوں سے متعلق سمجھوتوں کے بارے میں عندیہ دے چکے ہیں کہ ان سے زیادہ امیدیں وابستہ نہ کی جائیں۔ اس سربراہی کانفرنس سے قبل سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت میں ایڈنبرا میں پیر کو ہونے والے مظاہروں کے باعث زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔پولیس پر کچھ چیزیں پھینکے جانے اور مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں تا ہم کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا کیونکہ پولیس کی تعداد مظاہرین سے کہیں زیادہ تھی۔ نامہ نگاروں کے مطابق ایڈنبرا کے نواحی علاقے گلین ایگلز کی اسوقت یہ حالت ہے کہ وہاں کے ہر مقامی باشندے پر کم از کم دو پولیس والے نظر رکھے ہوئے ہیں۔مقامی لوگ اس صورتحال پر یہ تبصرہ کر رہے کہ ’اسوقت ہمارا قصبہ ملک کا سب سے محفوظ ترین قصبہ ہے۔‘ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ اتنے کڑے حفاظتی اقدامات جی ایٹ کے کل سے شروع ہونے والے سربراہ اجلاس کے پس منظر میں انتظامی بے چینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ پولیس کے مطابق دوکانیں کھلی رکھنے پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا تاہم تاجروں کو ڈر ہے کہ احتجاجی مظاہرے قابو سے باہر بھی ہوسکتے ہیں۔حکام نے کانفرنس کے مقام سے مظاہرین کو دور رکھنے کے لئے ایک پانچ میل طویل حفاظتی باڑ کھڑی کردی ہے۔ کل کیا ہو سکتا ہے اسکا اندازہ انتظامیہ کو گزشتہ روز بخوبی ہو گیا ہے جب سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے مخالف سرگرم کارکنوں نے ایڈنبرا شہر کے بیچوں بیچ باجے تاشے سے اپنا مظاہرہ شروع کیا اور پھر مظاہرین نے بنچیں اکھاڑنا شروع کردیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||