BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 May, 2006, 01:00 GMT 06:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی کارروائیوں میں مشکلات
امدادی کارکنوں کے مطابق متاثرین میں امداد رفتہ رفتہ پہنچ رہی ہے
اقوامِ متحدہ نے انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں زلزلے کے بعد جاری امدای کارروائیوں کو درپیش بڑی مشکلات سے خبردار کیا ہے

جاوا میں ہفتے کو آنے والے زلزلے میں قریباً پانچ ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارکنوں اور ضروری اشیاء کی آمد کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ریلیف کوارڈینیٹر ژاں ایگلینڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ’ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس زلزلے سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں اور علاقے میں طبی امداد کی فراہمی کی اشد ضرورت ہے۔

ادھر جاوا میں زلزلے کے متاثرین نے دوسری شب کھلے آسمان تلے شدید بارش میں گزاری ہے۔ بارش اتنی شدید تھی کہ متاثرین کو مجبوری میں میں اپنے گھروں کے ملبوں میں پناہ لینی پڑی۔ امدادی کارکن ابھی بھی زلزلے سے بچنے والوں کی تلاش میں عمارتوں کا ملبہ چھان رہے ہیں۔

دریں اثناء زلزلے سے بری طرح متاثر ہونے والے علاقے یوگ کارتا میں امداد پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیوں کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔

یوگ کارتا میں 20000 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور دو لاکھ سے زائد بےگھر ہوگئے تھے۔ یوگ کارتا کے جنوبی علاقوں میں جہاں گھنی آبادی ہے، عمارتیں بڑے پیمانے پر زمیں بوس ہوگئی تھیں۔

خوراک سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ اس کے امدادی کارکنوں نے یوگ کارتا کے ضلعوں بانتول اور کلاٹین میں کھانے پینے کی اشیاء ٹرکوں کے ذریعے پہنچانی شروع کردی ہیں۔

ٹینٹ کی کمی
 اب مسئلہ یہ ہے ہمارے پاس ٹینٹ کی کمی ہے اور لوگ ابھی بھی سڑکوں پر اور کھلے آسمان تلے سورہے ہیں۔
مقامی اہلکار
تاہم خبررساں اداروں کا کہنا ہے کہ مقامی حکام نے انہیں بتایا کہ زلزلے کے متاثرین میں خوراک کی تقسیم کافی سست رفتار سے ہورہی ہے۔ ایک مقامی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا: ’اب مسئلہ یہ ہے ہمارے پاس ٹینٹ کی کمی ہے اور لوگ ابھی بھی سڑکوں پر اور کھلے آسمان تلے سورہے ہیں۔‘

زلزلے کے متاثرین کے لیے اتوار کے روز ہونے والی بارش کافی پریشان کن ثابت ہوئی اور بہت لوگوں کو اپنے گھروں کے ملبوں میں پناہ لینی پڑی۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے پیر کے روز جنیوا میں ایک اجلاس کررہے ہیں جہاں زلزلے کے متاثرین کے لیے ریلیف پہنچانے کا پروگرام زیرغور ہوگا۔ اس اجلاس میں خوراک، صحت اور بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے اور ریڈ کراس شامل ہوں گے۔

یوگ کارتا میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ وہاں حالات کافی برے ہیں اور زلزلے کے متاثرین ابھی بھی زخمی حالت میں ہسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں۔ تاہم امدادی ایجنسیاں فیلڈ ہسپتال قائم کررہی ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے کے قریب میراپی کی پہاڑیوں میں آتش فشاں کے ممکنہ طور پر پھٹنے کے خدشے کے پیش نظر جو ہنگامی منصوبہ بنایا گیا تھا اسے اب زلزلے کے متاثرین کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ لیکن میراپی کے آتش فشاں میں سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں تاہم مبصرین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ آتش فشاں کا خطرہ کتنا حقیقی ہے۔

اسی بارے میں:


زلزلہلوگوں کی کہانیاں
انڈونیشیا میں زلزلہ متاثرین پر کیا گزری؟
سونامی: چھ ماہ مکمل
سونامی سےمتاثرہ ممالک میں تقریبات کا انعقاد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد