امدادی کارروائیوں میں مشکلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ نے انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں زلزلے کے بعد جاری امدای کارروائیوں کو درپیش بڑی مشکلات سے خبردار کیا ہے جاوا میں ہفتے کو آنے والے زلزلے میں قریباً پانچ ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارکنوں اور ضروری اشیاء کی آمد کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ریلیف کوارڈینیٹر ژاں ایگلینڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ’ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس زلزلے سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں اور علاقے میں طبی امداد کی فراہمی کی اشد ضرورت ہے۔ ادھر جاوا میں زلزلے کے متاثرین نے دوسری شب کھلے آسمان تلے شدید بارش میں گزاری ہے۔ بارش اتنی شدید تھی کہ متاثرین کو مجبوری میں میں اپنے گھروں کے ملبوں میں پناہ لینی پڑی۔ امدادی کارکن ابھی بھی زلزلے سے بچنے والوں کی تلاش میں عمارتوں کا ملبہ چھان رہے ہیں۔ دریں اثناء زلزلے سے بری طرح متاثر ہونے والے علاقے یوگ کارتا میں امداد پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیوں کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ یوگ کارتا میں 20000 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور دو لاکھ سے زائد بےگھر ہوگئے تھے۔ یوگ کارتا کے جنوبی علاقوں میں جہاں گھنی آبادی ہے، عمارتیں بڑے پیمانے پر زمیں بوس ہوگئی تھیں۔ خوراک سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ اس کے امدادی کارکنوں نے یوگ کارتا کے ضلعوں بانتول اور کلاٹین میں کھانے پینے کی اشیاء ٹرکوں کے ذریعے پہنچانی شروع کردی ہیں۔
زلزلے کے متاثرین کے لیے اتوار کے روز ہونے والی بارش کافی پریشان کن ثابت ہوئی اور بہت لوگوں کو اپنے گھروں کے ملبوں میں پناہ لینی پڑی۔ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے پیر کے روز جنیوا میں ایک اجلاس کررہے ہیں جہاں زلزلے کے متاثرین کے لیے ریلیف پہنچانے کا پروگرام زیرغور ہوگا۔ اس اجلاس میں خوراک، صحت اور بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے اور ریڈ کراس شامل ہوں گے۔ یوگ کارتا میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ وہاں حالات کافی برے ہیں اور زلزلے کے متاثرین ابھی بھی زخمی حالت میں ہسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں۔ تاہم امدادی ایجنسیاں فیلڈ ہسپتال قائم کررہی ہیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے کے قریب میراپی کی پہاڑیوں میں آتش فشاں کے ممکنہ طور پر پھٹنے کے خدشے کے پیش نظر جو ہنگامی منصوبہ بنایا گیا تھا اسے اب زلزلے کے متاثرین کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ لیکن میراپی کے آتش فشاں میں سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں تاہم مبصرین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ آتش فشاں کا خطرہ کتنا حقیقی ہے۔ اسی بارے میں: |
اسی بارے میں جاوا زلزلہ: 3000 ہلاکتیں، ہزاروں زخمی27 May, 2006 | آس پاس انڈونیشیا زلزلے میں کئی افراد ہلاک27 May, 2006 | آس پاس انڈونیشیا زلزلے کی وڈیو رپورٹ27 May, 2006 | آس پاس انڈونیشیا: زلزلے میں 46 افراد ہلاک27 May, 2006 | آس پاس آسمان تلے دوسری شب گزارنے پر مجبور28 May, 2006 | آس پاس 27 مئی : یوگ یاکرتا کے لوگوں پر کیا گزری27 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||