زلزلہ: امدادی ایجنسیوں کااجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرکزی جاوا میں زلزلے کے متاثرین تک امداد کی فراہمی کے لیے خوراک، صحت اور بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیاں اور ریڈ کراس پیر کے روز جنیوا میں ایک اجلاس کررہی ہیں۔ جاوا میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 46000 سے زائد بتائی گئی ہے جبکہ لاکھوں لوگ بےگھر ہیں اور متاثرین نے دوسری شب کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں موجود اہلکاروں اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہاں ٹینٹ، خوارک، کپڑے اور پینے کے پانی کی اشد ضرورت ہے۔ خوراک سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایک امدادی ٹیم جاوا پہنچ گئی ہے جو متاثرین کی ضرورتوں کا اندازہ لگارہی ہے۔ اس ٹیم کی رپورٹ پیر کے روز جنیوا میں امدادی ایجنسیوں کو دستیاب ہوجائے گی۔ بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے واٹر ٹینک اور اسکول ٹینٹ متاثرین کے لیے بھیجے ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ متاثرین کو بہت دنوں تک مدد کی ضرورت پڑتی رہے گی۔ امدادی کارکنوں کا اندازہ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں کئی مہینوں تک بچوں کو ٹینٹ کے اسکولوں میں ہی تعلیم حاصل کرنی پڑے گی۔ فوری طور پر دوا اور فیلڈ ہسپتالوں کی بھی ضرورت ہے کیوں کہ وہاں موجود ہسپتالوں میں بڑی تعداد میں زلزلے سے زخمی افراد طبی امداد کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ جنیوا میں پیر کے روز امدادی ایجنسیاں اس بات کا اندازہ لگائیں گی کہ انہیں فوری طور پر کس پیمانے پر امداد پہنچانے کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں 27 مئی : یوگ یاکرتا کے لوگوں پر کیا گزری27 May, 2006 | آس پاس جاوا میں بارش، متاثرین کھلے آسمان تلے29 May, 2006 | آس پاس آسمان تلے دوسری شب گزارنے پر مجبور28 May, 2006 | آس پاس انڈونیشیا: زلزلے میں 46 افراد ہلاک27 May, 2006 | آس پاس زلزلہ: عینی شاہدین کیا کہتے ہیں27 May, 2006 | آس پاس انڈونیشیا زلزلے کی وڈیو رپورٹ27 May, 2006 | آس پاس جاوا زلزلہ: 3000 ہلاکتیں، ہزاروں زخمی27 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||