BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 May, 2006, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: عینی شاہدین کیا کہتے ہیں

زلزلہ
زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے
انڈونیشیا کے جزیرے مرکزی جاوا کے جنوبی ساحل پر سنیچر کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریبا پانچ بج کر پچپن منٹ پر آنے والا زلزلہ اس وقت آیا جب میں گھر سے باہر نکلنے کے لیے تیار ہی تھا۔ میں نے زلزلے کےانتہائی طاقت ور جھٹکے محسوس کیے۔

اور یہ جھٹکے اتنے شدید تھے کہ میں اپنا توازن کھو بیٹھا۔

میں فورا سونے کے کمرے کی طرف دوڑا تاکہ اپنے خاندان والوں کو گھر سے باہر نکال سکوں اور گھر کے درودیوار ایسے ہل رہےتھے کہ جیسے وہ ابھی گر جائیں گے۔

میں اپنے پڑوس کے گھروں سے چیخ پکارکی آوازیں سن رہا تھا۔ بروقت گھر سے باہر نکل آنے سے ہم محفوظ رہے۔

یوگ یا کرتا جہاں ہم رہ رہے ہیں وہ آتش فشاں کے مقام یعنی میراپی کے پہاڑ کے ایک سرے پر واقع ہے۔ جہاں سے اس وقت لاوا اور راکھ نکل رہی ہے۔

زلزلے کے بعد پہلی چیز جو ذہن میں آئی وہ یہ کہ کہیں یہ آتش فشاں کے پھٹنے سے ہونے والی تباہی نہ ہو۔

لیکن ایسا نہیں تھا۔ ماہر ارضیات اب کہہ رہے ہیں کہ حالیہ زلزلے کا آتش فشاں میں ہونے والی تبدیلیوں یا سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن زلزلے کی وجہ سے آتش فشاں میں پڑنے والی دراڑیں کھل گئی ہیں اور ان سے گیس اور راکھ کا اخراج ہو رہا ہے۔ لوگ ابھی تک اس حصے میں موجود ہیں جن میں سے بہت سے اپنے گھروں کو واپس جانے کو تیار نہیں۔

زلزلہ متاثرین کے لیے عارضی میڈیکل کیمپ

زلزلے کے فورًا بعد ہی میں گھر سے نکل پڑا تو دیکھا کہ گلیوں میں لوگوں نے بستر بچھائے ہوئے ہیں اور دوسری ضروریات کا سامان اکھٹا کر رکھا ہے اور ڈر کر باہر ہی سو رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے فٹ بال کے میدان میں پلاسٹک سے بنے خمیے لگائے ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ پیما پر چھ اعشاریہ دو کی شدت کے اس زلزلے کا مرکز جاوا میں یوگ یا کرتا کے قریب تھا جہاں بڑے پیمانے پر عمارتیں زمیں بوس ہوگئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یوگ یا کرتا کے قریب میں واقع دیگر دو شہر بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ٹیلی ویژن کی تصاویر سے لگتا ہے کہ زخمیوں کو کھلے عام سڑکوں پر اور ہسپتالوں کے باہر طبی امداد پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات دوسرے علاقوں س سے بھی آرہی ہیں تاہم اس وقت ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا اگرچہ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

یوگ یا کرتا انڈونیشیا کا قدیمی دارالحکومت ہے جو موجودہ دارالحکومت جکارتہ سے جنوب مشرق میں 440 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد