BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 May, 2006, 02:59 GMT 07:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈونیشیا: زلزلے میں 46 افراد ہلاک
زلزلے میں عمارتیں تباہ ہوگئیں
انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے جنوبی ساحل پر آنے والے ایک طاقتور زلزلے میں کم سے کم 46 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزۂ پیما پر اس کی شدت چھ اعشاریہ دو تھی جسے شدید سمجھاجاسکتا ہے۔ اس زلزلے کا مرکز یوگ یاکرتا نامی شہر کے پاس تھا جہاں عمارتیں زمیں بوس ہوگئیں۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی علاقے میں افراتفری مچ گئی اور پناہ کی تلاش میں لوگ گھروں سے باہر نکلنے لگے۔ مقامی ریڈیو کے مطابق کئی ہسپتالوں میں زخمیوں کو علاج کے لیے داخل کرایا جارہا ہے۔

پولیس کے مطابق یوگ یاکرتا میں بجلی اور اطلاعات کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجکر چون منٹ پر آیا۔ یوگ یاکرتا انڈونیشیا کا قدیمی دارالحکومت ہے جو موجودہ دارالحکومت جکارتہ سے جنوب مشرق میں 440 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

مرکزی جاوا میں بچوں کے امدادی ادارے پلان انٹرنیشنل کے لیے کام کرنے والے اہلکار ویزمین راس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’زلزلہ بڑے پیمانے پر محسوس کیا گیا، اتنا بڑا کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا کبھی نہیں محسوس کیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا: ’جیسے مجھے بستر میں کسی نے جھنجھوڑ دیا ہو۔۔۔ فرنیچر گررہے تھے، میرے ہوٹل کے کمرے کے چھت سے پتھر گرنے لگے، اور لوگ اپنے سونے والے کپڑوں میں ہی عمارت سے بھاگ کر افراتفری میں نکلنے لگے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شہر میں ہر طرف بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور کئی چھوٹی اور پرانی عمارتیں زمیں بوس ہوگئی ہیں۔ ایک عینی شاہد نے امریکی خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اس نے تین لاشیں عمارت کے ملبے کے نیچے دیکھی ہیں۔

ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات دوسرے علاقوں س سے بھی آرہی ہیں۔ محمدیہ ہسپتال کے نرس وہاب نے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہمارے پاس کم سے کم پانچ لاشیں ہیں لیکن یہ تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔‘ یوگ کارتا میں سرجیتو ہسپتال نے بتایا ہے کہ وہاں لاشیں لائی گئی ہیں۔ رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے ہسپتال میں کم سے کم دس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں اور زخمیوں کی صحیح تعداد نہیں بتائی جاسکتی ہے۔ یوگ یاکرتا صوبے میں پولیس افسر سوبی یاکتو نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہلاکتوں کی تعداد ابھی نہیں معلوم ہے لیکن ہاں، کئی لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔‘

دسمبر 2004 میں انڈونیشیا کے ساحل پر سمندر میں آنے والے زلزلے سے پیدا ہونے والی سونامی کی لہروں سے لاکھوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
انڈونیشیا میں شدید زلزلہ
27 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد