انڈونیشیا: زلزلے میں 46 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے جنوبی ساحل پر آنے والے ایک طاقتور زلزلے میں کم سے کم 46 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزۂ پیما پر اس کی شدت چھ اعشاریہ دو تھی جسے شدید سمجھاجاسکتا ہے۔ اس زلزلے کا مرکز یوگ یاکرتا نامی شہر کے پاس تھا جہاں عمارتیں زمیں بوس ہوگئیں۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی علاقے میں افراتفری مچ گئی اور پناہ کی تلاش میں لوگ گھروں سے باہر نکلنے لگے۔ مقامی ریڈیو کے مطابق کئی ہسپتالوں میں زخمیوں کو علاج کے لیے داخل کرایا جارہا ہے۔ پولیس کے مطابق یوگ یاکرتا میں بجلی اور اطلاعات کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجکر چون منٹ پر آیا۔ یوگ یاکرتا انڈونیشیا کا قدیمی دارالحکومت ہے جو موجودہ دارالحکومت جکارتہ سے جنوب مشرق میں 440 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔
انہوں نے بتایا: ’جیسے مجھے بستر میں کسی نے جھنجھوڑ دیا ہو۔۔۔ فرنیچر گررہے تھے، میرے ہوٹل کے کمرے کے چھت سے پتھر گرنے لگے، اور لوگ اپنے سونے والے کپڑوں میں ہی عمارت سے بھاگ کر افراتفری میں نکلنے لگے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں ہر طرف بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور کئی چھوٹی اور پرانی عمارتیں زمیں بوس ہوگئی ہیں۔ ایک عینی شاہد نے امریکی خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اس نے تین لاشیں عمارت کے ملبے کے نیچے دیکھی ہیں۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات دوسرے علاقوں س سے بھی آرہی ہیں۔ محمدیہ ہسپتال کے نرس وہاب نے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہمارے پاس کم سے کم پانچ لاشیں ہیں لیکن یہ تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔‘ یوگ کارتا میں سرجیتو ہسپتال نے بتایا ہے کہ وہاں لاشیں لائی گئی ہیں۔ رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے ہسپتال میں کم سے کم دس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں اور زخمیوں کی صحیح تعداد نہیں بتائی جاسکتی ہے۔ یوگ یاکرتا صوبے میں پولیس افسر سوبی یاکتو نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہلاکتوں کی تعداد ابھی نہیں معلوم ہے لیکن ہاں، کئی لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔‘ دسمبر 2004 میں انڈونیشیا کے ساحل پر سمندر میں آنے والے زلزلے سے پیدا ہونے والی سونامی کی لہروں سے لاکھوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں سونامی وارننگ سسٹم پر اتفاق01 July, 2005 | آس پاس دو ہزار پانچ آفات کا سال رہا: سروے 30 December, 2005 | آس پاس انڈونیشیا میں شدید زلزلہ27 January, 2006 | آس پاس بحرالکاہل ممالک میں سونامی ٹیسٹ17 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||