 |  اگر پہلے سے پتہ چل جاتا تو بہت سی جانیں ضائع ہونے سے بچ جاتیں |
اقوامِ متحدہ کے سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ بحیرہ ہند میں سونامی کے بارے میں پہلے سے آگاہی کا ایک نظام قائم کرنے کے لیے پیرس میں ایک سمجھوتہ کر لیا گیا ہے۔ یہ نظام اسی نمونے کا ہو گا جو بحرالکاہل کے علاقے میں پہلے ہی سے رائج ہے جہاں گہرے سمندر سے سینسرز نگراں مراکز اور ہنگامی خدمات مہیا کرنے والے مانیٹرنگ سینٹرز سے منسلک کر دیے گئے۔ یہ معاہدہ سونامی کے تباہی کے چھ ماہ بعد وجود میں آیا ہے۔ جس سے بحیرہ ہند کے کئی ممالک متاثر ہوئے تھے اور کم از کم ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ نئے نظام کے منتظمین کا کہنا ہے کہ کسی بڑی طوفانی موج کو روکا تو نہیں جا سکتا، لیکن وقت سے اگر اس کی آمد کی آگاہی ہو جائے تو انسانی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ منصوبے کے مطابق بحیرہ ہند کے ساحل کے ساتھ کا ہر ملک انفرادی طور پر وارننگ سینٹرز بنائیں گے جنہیں ایک نیٹ ورک کے ذریعے منسلک کر دیا جائے گا۔ |