سونامی کو چھ ماہ مکمل ہوگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سونامی کے چھ ماہ مکمل ہونے پراس سانحے سے متاثرہ ممالک میں اس واقعہ کی یاد میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ان ممالک میں انڈونیشیا سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ وہاں اقوام متحدہ، ورلڈ بینک کے اہلکاروں اور مقامی رہنماؤں نے اس حوالے سے ایک تقریب منعقد کی۔ سونامی کی تباہی کے بعد متاثرہ ممالک میں تعمیر نو کا عمل ست روی کا شکار ہے۔ ہزاورں لوگ ابھی تک کھلےآسمان کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ سونامی نے پچھلے سال دسمبر کے مہینے میں تیرہ ممالک میں تباہی پھیلائی تھی اور تقریباً دولاکھ افراد اس تباہی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ خطے کی تعمیر نومیں پانچ سال کا عرصہ لگے گا ہفتے کو انڈونیشیا کے شہر بندا آچے میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آچےمیں اقوام متحدہ کے رابطہ کار بو اپسلنڈ نے کہا کہ سونامی کے متاثرین اپنی حالت میں حقیقی تبدیلی کے منتظر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امدادی کاروائیوں میں بہتری کی بدولت اگلے چند ماہ تک تعمیر نو سے آچے کی صورت حال میں واضح تبدیلی آئے گی۔ انڈونیشیا میں سونامی سے ایک لاکھ اٹھائیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے وہاں مرنے والوں کی نعشیں ابھی تک نکالی جا رہی ہیں۔ انڈونیشیا میں یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ امدادی اور تعمیر ی عمل مقامی سیاست اور بدعنوانی کا شکار ہو رہا ہے۔ آچےاور نیاس میں ڈائریکٹر برائے امداد کنتورو منگکوسوبوروتو کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ڈونرز کی جانب سے ابھی تک دو اعشاریہ آٹھ بلین کی رقم جاری کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس رقم کا ایک بڑا حصہ ایک سو بہتر منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے جس میں تیس ہزار گھروں کی تعمیر بھی شامل ہے۔ تھائی لینڈ میں چھ ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک سیاحوں کے لیے تعمیر تفریحی گاہیں خالی دیکھائی دیتی ہیں۔ برطانیہ کی ایک ٹیم دو ہزار متاثرین کی شناخت کے لیے وہاں سرگرم ہے جو اس سانحےکا شکار ہوئے۔ تامل ٹائیگر باغیوں اور سری لنکا کی حکومت کے مابین پچھلے ہفتے بین الاقوامی امداد سے تامل باغیوں کے زیر اثر علاقوں میں تعمیر نو کے عمل کی یقین دہانی کا ایک معاہدہ ہوا۔ ملائیشیا میں سونامی سے صرف اڑسٹھ لوگ ہلاک ہوئے وہاں بھی ساحلی علاقوں میں امدادی عمل کی رفتار سست ہے۔ بھارت کے ساحلی جزیروں انڈمان اور نیکوبر میں رہنے والے دیہاتیوں نے اس بات کی شکایت کی ہے کہ چھ مہینوں میں کوئی خاص کام نہیں ہوا ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ اس جزیروں میں سونامی سے دس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امداد فراہم کرنے والی ایجنسی آ کسفیم کا کہنا ہے کہ اس سانحے کے بعد غیر ملکی امداد کا ایک بڑا حصہ غریب متاثرین کی بجائے دولت مند زمینداروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||