 |  ’ہم روزانہ جب امدادی کاموں کے بعد رات کو گھر پہنچتے ہیں تو ان افراد کو یاد کرتے ہیں جن سے ہمارا بہت ہی قریبی رشتہ تھا‘ |
انڈونیشیا کے صوبے آچے میں سونامی کی تباہی میں ایک شخص کے تقریباً تین سو رشتہ دار ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس شخص کی بیوی نے اس کے خاندان کی مشکلات کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والی لنڈا نارتھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کا شوہر یہدی اسٹنز بند آچے کے نزدیک ایک گاؤں لمجبات سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ گاؤں مکمل طور پر سونامی کی طاقتور لہروں کا شکار ہوکر تباہ ہوگیا۔ لنڈا کا کہنا ہے کہ آچے میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ ایک گاؤں میں صرف ایک یا دو خاندانوں کے افراد بستے ہوں۔ اسی طرح لمجبات کے گاؤں میں اس کے شوہر کے خاندان کے کافی افراد بستے تھے۔ سونامی نے اس کے والدین، بہن بھائیوں اور دیگر تمام رشتہ داروں کے گھروں کا نام و نشان ہی مٹادیا۔ ایک ہی لمحے میں تین سو افراد لقمہ اجل بن گئے۔ گاؤں کی تقریباً چار ہزار نفوس پر مشتمل آبادی میں سے صرف 145 افراد اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوسکے ۔ سونامی کے واقعے کے وقت لنڈا اور اس کا شوہر جکارتہ میں تھے۔ تاہم اس تباہی و بربای کے بعد دونوں ہی امدادی کاموں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ لنڈا کہتی ہے ’ہم روزانہ جب امدادی کاموں کے بعد رات کو گھر پہنچتے ہیں تو ان افراد کو یاد کرتے ہیں جن سے ہمارا بہت ہی قریبی رشتہ تھا‘۔ انکا کہنا ہے ’تین سو میں سے صرف چند کی لاشیں اب تک دریافت ہوسکی ہیں اور خدشہ ہے کہ ہمارے خاندان کی ہلاکتوں کی تعداد تین سو سے بھی زیادہ ہو‘۔ |