سونامی بے بی اپنےگھر لوٹ گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سونامی طوفان کے بعد ملبے سے ملنے والا بچہ اپنے اصل والدین کے ہمراہ گھر چلا گیا ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد چار ماہ کے ابھیلاشا کو مروگو پلئی اور جنیتا جے راج کا بیٹا قرار دیا گیا تھا۔ آٹھ اور جوڑے بھی اس بچے کے ماں باپ ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ عدالت میں ایک مختصر سی تقریب میں بچے کو اس کے والدین کے حوالے کیا گیا جس کے بعد وہ کلمنائی اپنے عارضی گھر چلے گئے۔ راستے میں انہوں نے ایک مندر میں رک کر دعا کی۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مروگو پلئی نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں لیکن ساتھ ہی دکھی بھی ہیں کہ اس طوفان نے لاکھوں لوگوں کی جان لی ہے۔ اس خاندان نے بھی سونامی کی لہروں میں اپنا سب کچھ کھو دیا تھا اور اب وہ ایک پناہ گزیں کیمپ میں رہ رہے ہیں۔ اس ماہ کے اوائل میں پولیس نے ان دونوں کو ہسپتال میں بچہ چھیننے پر گرفتار کیا تھا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ اور یہ وہ واحد جوڑا تھا جس نے بچے کو حاصل کرنے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا جس پر عدالت نے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا حکم جاری کیا تھا۔ عدالت کے فیصلے سے قبل انہیں پورا یقین تھا کہ انہیں بچہ واپس مل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بچہ 19 اکتوبر 2004 میں پیدا ہوا تھا۔ مرو گوو پلئی کا کہنا تھا کے بچہ ان سے اس وقت جدا ہوا جب سونامی کی لہریں سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گئیں۔ ان کے ایک پڑوسی نے اس بچے کو ملبے سے نکالا تھا۔ سونامی کے طوفان میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور سری لنکا میں ہلاک ہونے والوں میں 40 فیصد تعداد بچوں کی ہے۔ اس طوفان کے سبب صرف سری لنکا میں ایک ہزار بچے یتیم ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||