 |  انڈونیشیا میں مرنے والوں کی تعداد میں پچاس ہزار کا اضافہ ہوا ہے |
بحر ہند میں سنامی کی تباہ کاریوں سے مرنے والوں کی تعداد اب بڑھ کر دو لاکھ بیس ہزار ہوگئی ہے اور صرف انڈونیشیا میں ایک لاکھ سڑسٹھ ہزار ہلاک شدگان کی تصدیق ہوچکی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار انڈونیشیا کی وزارتِ صحت کی طرف سے پہلے جاری کیے گئے اعداد و شمار سے 50,000 زیادہ ہے۔ زیادہ تر اموات آچے اور شمالی سماٹرا کے صوبوں میں ہوئی ہیں۔ سری لنکا کی حکومت نے تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے 3.5 ارب ڈالر کے منصوبے کااعلان کیا ہے۔ اُدھر بھارت کی کابینہ نے گزشتہ روز کے اجلاس میں متاثرہ علاقوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے تقریبا چھ سو ملین ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا۔ انڈونیشیا کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر دوتی اندارسانتو نے کہا کہ مردہ لوگوں کی فہرست میں اضافہ اس لیے ہوا ہے کہ جن کو ہم پہلے لاپتہ کہہ رہے تھے اب ان کی موت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
 |  ابھی بھی ہزاروں افراد لاپتہ ہیں |
وزارت نے کہا کہ اب لاپتہ افراد کی فہرست 77,000 سے کم ہو کر 6,245 رہ گئی ہے۔اندارسانتو نے کہا کہ انہوں نے اس فہرست کا ازسرِ نو جائزہ لیا ہے اور اس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ درست ہے۔ آچے میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروے نے کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت بندا آچے کی چودہ فیصد آبادی کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ |