سونامی امداد، صرف امیروں کیلیے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک بین لاقوامی خیراتی ادارے کا کہنا ہے کہ سونامی کے چھ ماہ بعد بھی غریب ترین متاثرین امدادی کارروائیوں سے سب سے کم مستفید ہوئے ہیں۔ اوکسفیم کی جانب سے لیے گئے ایک جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امداد کا بڑا حصہ کاروباری اور زمیندار افراد کی بحالی میں صرف ہوا ہے اور غریبوں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک ان امدادی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہے جہاں نہ ہی کوئی روزگار ہے اور نہ ہی زندگی کی ایک نئی شروعات کے لیے وسائل مہیا کیے گئے ہیں۔ اوکسفیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ان علاقوں میں بھی امداد فراہم کی جائے جو یا تو بہت غریب ہیں یا ابھی تک نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں۔خیراتی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بحالی کے کاموں میں بھی ایسے علاقوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس جائزے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت میں دلت ذات کے افراد کو امدادی کارروائیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا جبکہ سری لنکا میں امداد کا بڑا حصہ بے زمین افراد کے بجائے زمیندار اور کاروباری افراد کو دیا گیا ہے۔ امیر اور غریب کا یہ فرق انڈونیشیا کے آفت زدہ صوبے آچے میں بھی واضح ہے جہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ چھبیس دسمبر کو آنے والی اس آفت سے قبل ہی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا تھا۔ اس علاقے میں سونامی کے قہر سے بچ نکلنے والے قریباً پانچ لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے لیکن ان افراد میں سے نسبتاً خوشحال خاندان اب امدادی کیمپوں سے جا چکے ہیں۔ برطانوی ماہرین تعلیم کی جانب سے لیے گئے ایک اور جائزے سے یہ پتہ چلا ہے کہ آدھا برس گزر جانے کے باوجود بہت کم افراد کے لیے مستقل رہائش کا بندوبست ہو سکا ہے۔ اس جائزے میں کہا گیا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا میں اس قسم کی ناکامیوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا اور تمام امدای ایجنسیوں اور مقامی حکومتوں کو اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ چھبیس دسمبر کو بحرِ ہند سے اٹھنے والی سونامی لہروں نے انذونیشیا سے لے کر صومالیہ تک تباہی مچا دی تھی اور اس قدرتی آفت میں کم از کم دو لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||