BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 January, 2005, 11:10 GMT 16:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وطن سے محروم بےوطن

ڈیئگو گارسیا
چھبیس دسمبر دو ہزار چار کو بحر ہند کے ممالک میں سونامی نے قیامت خیز تباہی پھیلائی لیکن جزائر کا ایک مجموعہ ایسا بھی تھا جس کے حکام کا کہنا ہے کہ یہاں معمولی سے ماحولیاتی نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ اس سے مراد شاید یہ ہے کہ کچھ پیڑ ا کھڑ گئے ہونگے، کچھ کیچڑ ہوگئی ہوگی۔

سیشیلز کے جزیروں سے ایک ہزار سات سو کلومیٹر مشرق میں واقع یہ جزائر چےگوس کہلاتے ہیں ۔ان کو نقصان نہ پہنچنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں جو لوگ تین سو سال سے آباد تھے انہیں کوئی پینتیس برس پہلے ملک بدر کردیا گیا تھا۔
ان چھ جزائر میں سے ایک جزیرہ ایسا ہے جس کے نام سے آپ خوب مانوس ہونگے ۔۔۔ ڈیئگو گارسیا جہاں پندرہ سو امریکی فوجی اور دوہزار ٹھیکے داروں کی آبادی ہے جو پندرہ ہزار فٹ لمبے رن وے کے پاس بسے ہوئے ہیں۔ اب شاید آپ کو اندازہ ہوگیا ہو کہ ڈیئگو گارسیا سے کسی تباہی کی کوئی اطلاع کیوں نہیں آئی۔

یہ جزیرے برطانیہ کی ملکیت ہیں ۔ دفتر خارجہ و دولت مشترکہ کی ویب سائٹ پر ان جزیروں کی تاریخ اور جغرافیائی تفصیلات بیان کی گئی ہیں لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے ان کے باشندوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ البتہ امریکی سی آئی اے کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ ان چھ جزیروں کے زراعت پیشہ باشندوں کو انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ری لوکیٹ کردیا گیا تھا یعنی دوسری جگہ آباد کردیا گیا تھا۔

اس ری لوکیشن کی کہانی خاصی درد ناک ہے۔

انیس سو اڑسٹھ میں جب سویت یونین سے سرد جنگ اپنے عروج پر تھی تو امریکہ نے برطانیہ سے خواہش ظاہر کی کہ چےگوس کے جزیرے اسے پٹے پر دے دیے جائیں لیکن یہاں آباد باشندوں کو کہیں اور بسا دیا جائے۔ برطانیہ شاذ و نادر ہی امریکہ کی کسی خواہش سے انکار کرتا ہے۔ ویسے بھی امریکہ نے پیسے کی بھی پیش کش کی تھی۔

جزیروں میں بارہ پندرہ سو کی آبادی تھی جن کے آباؤ اجداد کو فرانسیسی آباد کار سن سترہ سو چھہتر میں غلام بناکر لائے تھے۔ یہ لوگ گنا اگاتے، ناریل کے پیڑ لگاتے اور مچھلیاں پکڑتے تھے۔ ان کو چےگوسیئن یہ ایلیؤس کہا جاتا ہے۔

ان باشندوں کو ان کے اپنے ملک سے نکالنے کی کارروائی شروع ہوئی۔ جو لوگ باہر گئے ہوئے تھے ان کی واپسی بند کردی گئی۔ باقی ماندہ کے کاغذات مثلاً پیدائش کے سرٹیفیکٹ جلا دیے گئے۔انکے مویشیوں کو ماردیا گیا اور مردوں، عورتوں، بچوں کو جہازوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح بھر کے اسی طرح ماریشس بھیج دیا گیا جیسے ان کے آباؤ اجداد غلاموں کی طرح چےگوس میں لائےگئے تھے۔

چے گوسیئن کہتے ہیں کہ ماریشس میں ہمارے ساتھ بہت برا سلوک ہوا۔ پہنچتے ہی ہر ایک کی جامہ تلاشی ہوئی کہ کہیں کوئی دستاویز تو ساتھ نہیں لے آئے ہیں، ہمارا سارا سامان لوٹ لیا گیا۔ ہماری تقدیر میں مفلسی اور ناداری لکھ دی گئی۔برطانوی حکومت کے سرکاری کاغذات میں چےگوسیئن باشندوں کو ”ماریشس کے تارک وطن مزدور" ظاہرکیا گیا ہے۔ یہ نہیں لکھا گیا کہ یہ لوگ دو سو سال سے یہاں آباد تھے۔

اس ترکیب سے ان کو وطنیت کے حق سے محروم کردیا گیا۔اور پھرانیس سو تراسی میں پندرہ سو ڈالر فی خاندان کے حساب سے انکے گھر، ان کے روزگار، ان کے اعزہ کی قبروں ہر چیز کا حساب بے باق کردیا گیا اور کاغذ پر انگوٹھےلگوا لیےگئے کہ اب وہ کوئی مطالبہ نہیں کریں گے۔

ان بیچاروں میں سے اکثر کو لکھنا پڑھنا بھی نہیں آتا تھا۔لیکن ان کی بے چین روحوں کو قرار کہاں تھا۔ مظاہرےاور احتجاج کرتے کرتےآخر میں ان کا مقدمہ لندن کی عدالت میں پیش ہوا ۔ تین نومبر دوہزار کو آخری فیصلہ ملا کہ چےگوسیئن باشندوں کو اپنے وطن واپس جانے سے نہیں روکا جاسکتا کیونکہ انہیں غیر قانونی طور پر بے دخل کیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ نے ہدایت کی یہ باشندے چھ میں سے پانچ جزیروں میں جاکر دوبارہ آباد ہونے کا حق رکھتے ہیں لیکن چونکہ ڈیئگوگارسیا کی بین الاقوامی معاہدے کے تحت ایک الگ حیثیت ہے اس لئے اس پر دوبارہ حق نہیں جتا سکتے۔

حکومت برطانیہ نے بر سر عام تو فیصلے کو قبول کرلیا لیکن اعلان کیا کہ ان کی واپسی کے انتظامات میں وقت لگے گا کیونکہ ان جزائر میں کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کہا گیا کہ اس علاقے کے بارے میں فیصلے کا انحصار فوجی حکمت عملی اور دوسرے مفادات کی روشنی میں کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت نے برطانیہ پر بہت دباؤ ڈالا کہ ہرگز ان جزیروں آباد نہ کیا جائے۔ کیونکہ فوجی اہمیت کے ایسے اڈے کی حیثیت کمزور ہوجائے گی جس کی کوئی اور نظیر دنیا میں نہیں ہے۔

امریکی حکومت نے برطانیہ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ اس اڈے کو فضائیہ کی جدید ترین سہولتوں کے لئے تیار کرنے کی اجازت دی جائے۔ مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے لئے امریکہ کے جو عزائم ہیں ان کے پیش نظر یہ بات ناممکن معلوم ہوتی ہے کہ برطانیہ چے گوسیئن باشندوں کو بسانے کے لئے اس طرح کی کوشش کرےگا جیسی وہ سونامی کے آفت زدگان کے لیے کررہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد