 |  نیاس میں تمام بڑی عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں |
انڈونیشیا کے شدید ترین زلزلے سے متاثرہ جزیرے میں امدادی کارروائیاں اور لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک زلزلے سے تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ گزشتہ روز ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا اندازہ ایک سے دو ہزار کے درمیان لگایا گیا تھا۔ ایک امدادی ادارے آکسفام کا کہنا ہے کہ لوگ انتۃائی خوفزدہ ہیں اور مسلسل پناہ کی تلاش میں ہیں انہیں خوف ہے کہ سونامی جیسے طوفان کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے جو امدادی کام کے نگرانی کر رہے ہیں بتایا ہے کہ جزیری نیاس میں بڑی عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں اور ان کے ملبے سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔ ان کا کہناہے کہ بڑے شہر میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں۔ شہر میں لوگوں کے کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو جہاز امدادی سامان لے کر متاثرہ جزیرے کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور مزید امدادی سامان جانے کے لیے تیار ہے۔ امریکی جیالوجکل سروے کے ترجمان کے مطابق دسمبر 2004 میں آنے والے تاریخ کے بدترین سونامی کے بعد بحر ہند میں آنے والا یہ سب سے شدید زلزلہ ہے۔ یہ زلزلہ اس جگہ کے قریب ہی آیا ہے جہاں گزشتہ دسمبر کی چھبیس تاریخ کو زلزلہ آیا تھا اور جس کی وجہ سے بحر ہند میں سونامی طوفان سے تین لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک یا لاپتہ ہو گئے تھے۔ |