بحرالکاہل ممالک میں سونامی ٹیسٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحرالکاہل کے قریب تیس سے زیادہ ممالک نے سونامی سے خبردار کرنے والے نظام کا تجربہ کیا ہے۔ اس تجربے کا آغاز ہوائی میں سونامی وارننگ سینٹر میں الارم سے کیا گیا۔ اس مصنوعی صورتحال میں چلی کے ساحل کے قریب نو اعشاریہ دو شدت کا زلزلہ آیا جو بحرالکاہل کے مشرق میں سونامی طوفان کا باعث بنا۔ اس کے علاوہ فلپائن میں ایک اور فرضی زلزلہ آیا جس سے غربی بحرالکاہل میں زلزلے سے خبردار کرنے والے نظام کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ حکومتیں اب اس بات کی رپورٹ دے رہی ہیں کہ انہیں موسمیات کے مختلف آلات کے ذریعے یہ اطلاعات کتنے موثر طریقے سے پہنچیں۔ اس مشق کا مقصد یہ جاننا ہے کہ سونامی سے خبردار کرنے والا نظام مقامی موسمیات کے آلات کے ذریعے کتنی صحیح معلومات پہنچاتا ہے۔ اس مشق کا انتظام ہوائی کے سونامی وارننگ سینٹر نے کیا تھا۔ اس مشق کے آغاز میں ایک تیز آواز پورے سینٹر میں گونجی اور اس کے منٹوں بعد سونامی سے خبردار کرنے والے پیغامات نشر کر دیے گئے۔ امریکہ کے سمندر اور ساحل کے منتظم ادارے کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ابھی تک یہ تجربہ بہت ہی اچھا رہا ہے۔ انہوں نے ہر ملک سے رابطہ کیا ہے جو اس تجربے میں شامل تھا اور تقریباً سبھی نے یہ کہا ہے کہ انہیں نشریات مل گئی ہیں‘۔
اس سے قبل وارننگ سینٹر کے سربراہ چارلس مک کری نے کہا کہ ’اس عمل میں شامل ممالک کی دلچسپی کو دیکھ کر ہم اس مشق کے شروع ہونے سے قبل ہی اسے کامیاب سمجھنا شروع ہو گئے تھے۔ اتنا تعاون ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا‘۔ اس تجربے کے دوسرے حصے میں تھائی لینڈ، ملیشیا اور فلپائن کے حکام لوگوں کو نکالنے کی مشق بھی کر رہے ہیں۔ بدھ کی صبح فلپائن میں ایک ہزار لوگوں کو علاقے سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دسمبر دو ہزار چار میں آنے والی تباہی کے وقت حکومتوں کی دلچسپی ماند پڑ گئی تھی اور اس کے نتیجے میں دو لاکھ افراد ہلاک ہو گئے۔ بدھ کو ہونے والی ایک اور مشق میں فلپائن میں آٹھ اعشاریہ آٹھ شدت کے زلزلے کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ بحرالکاہل میں وارننگ سسٹم انیس سو پینسٹھ سے نصب شدہ ہے لیکن اس وقت سے یہ اس کا سب سے بڑا تجربہ ہے۔ ا س کے بعد یہ مشق بحر ہند میں بھی تجربے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں سونامی کا خطرہ کم ہو گیا03 May, 2006 | آس پاس انڈونیشیا میں شدید زلزلہ27 January, 2006 | آس پاس دو ہزار پانچ آفات کا سال رہا: سروے 30 December, 2005 | آس پاس ہنگامی کیش فنڈ کی منظوری16 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||