بھارت کو سونامی کا تحفہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے غوطہ خوروں نے سونامی طوفان کے بعد نمودار ہونے والے ایک قدیم ساحلی شہر کے مزید آثار دریافت کیے ہیں۔ ماہرین آثارِقدیمہ کا کہنا ہے کہ جنوبی ساحل میں سمندر کی تہہ میں ملنے والے پتھروں کی عمارت کے ڈھانچے اور اجسام انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ خیال ہے کہ یہ دیومالائی شہر مہابالی پرم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ شہر اتنا خوبصورت تھا کہ دیوتاوں کی طرف سے ایک سیلاب بھیجا گیا اور اس سیلاب میں اس شہر کے سات میں سے چھ مندر ڈوب گئے تھے۔ اس سے قبل اس شہر کے آثار اس وقت نمودار ہوئے تھے جب سونامی لہریں ساحل پر موجود ریت کو بہا لیے گئیں تھیں۔
سونامی طوفان سے پہلے سمندر کے پانی کے پیچھے ہٹنے پر ساحل پر موجود لوگوں نے ایک مندر اور شہر کے دیگر آثار کو دکھائی دینے کی اطلاع دی تھی جس کے بعد بھارت کے آثارِ قدیمہ کے ادارے نے ساحل کے ساتھ سمندر کی تہہ میں غوطہ خوروں کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ نئے دریافت شدہ آثار ساتوں صدی عیسویں کے مہابالی پرم شہر کے مندر کے قریب دریافت کیے گئے ہیں۔ اس مندر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دیوتاوں کے قہر سے بھی بچ گیا تھا۔ غوطہ خوروں کی مہم کے سربراہ الوک ترپاٹی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ جو اجسام انہوں نے دریافت کی ہیں وہ صاف طور پر انسان کے ہاتھ کی بنائی ہوئی ہیں۔ ان قدیم تحفوں کو جو سونامی طوفان کی وجہ سے دریافت کیے گئے، اگلے ماہ دلی میں ہونے والی آثارِ قدیمہ کی ایک نمائش میں رکھا جائےگا۔ مہابالی پرم کے اس قدیم شہر سے ملنے والی چیزوں میں گرینائٹ کا ایک شیر بھی شامل ہے جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ کئی صدیوں تک ریت میں دبا رہا اور سونامی لہروں نے ریت ہٹا کر اس کو ظاہر کر دیا۔ اس مقام پر ماہرین آثار قدیمہ گزشتہ تین سال سے کام کر رہے ہیں۔ مہابالی پرم کے اس دیو مالائی شہر کے بارے میں ایک برطانوی سیاح جے گولڈنگہم نے لکھ تھا۔ جے گولڈنگہم کو سترہ سو اٹھانوے میں سفر کے دوران ان سات مندروں کی کی موجودگی کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||