سونامی و احتیاط پسندی کے شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غیر ملکی امدادی اداروں نے انڈامان اور نکوبار سے دور رکھے جانے کی بھارتی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انڈامان اور نکوبار جنہیں انگریز دور میں کالا پانی بھی قرار دیا جاتا تھا اور جہاں ان لوگوں کو لا کر رکھا جاتا تھا جن کے بارے میں نو آبادیاتی حکمرانوں کا خیال تھا کہ وہ ان کے اقتدار میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ان جزائر میں ہونے والی شدید تباہی کے باوجود اطلاعات ہیں کہ مذکورہ جزائر کے بہت سے دور دراز حصوں کو اب تک امداد حاصل نہیں ہو سکی۔ ان جزائر کے باشندوں کو امداد تقیسم کرنے والے سول اور فوجی حکام کی جانب سے امداد کی تقسیم کے طریقے پر بھی اعتراض ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں طبی امداد بھی حاصل نہیں ہو رہی۔ غیر سرکاری تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں جزائر کے ان علاقوں تک جانے کی اجازت دی جائے جہاں اب تک امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔ بھارتی حکومت غیر سرکاری تنظیموں کو دارالحکومت پورٹ بلیئر سے آگے کے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دیتی اور اس کا کہنا ہے کہ وہ یہ تمام امدادی کام خود کر سکتی ہے۔ بھارت لوگوں کو جزائر میں جانے کی اجازت نہ دینے کے اسباب سکیورٹی اور ان قبائل کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنا بتاتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قدیم ترین ہیں اور جن کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ ساڑھے سات سو میل کے رقبے پر پھیلے ہوئے یہ جزائر حکمت عملی کے اعتبار سے بھی اہم قرار دیے جاتے ہیں۔ ان جزائر کا انتہائی جنوبی حصہ انڈونشیا کے جزیرا سماٹرا سے صرف ایک سو پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جب کے شمال کا انتہائی حصہ برما کے کوکو جزائر سے صرف پچاس کلو میٹر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کے لیے ان جزائر کی اہمیت یہ ہے کہ ان سے اسے جنوب مشرقی ایشیا تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ دلی میں انسٹیٹیوٹ آف ڈیفنس سٹڈیز اینڈ اینالیسس کے ایک ماہر سابق کموڈور سی اودے کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ انڈمان اور نکوبار کے جزائر جغرافیائی طور پر ایک ایسے مقام پر واقع ہیں جہاں سے خلیج اور آبنائے ملاکا کے درمیان بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ ان جزائر میں موجودگی بھارت کی اس خواہش کی تکمیل کے بڑے ذریعے کا حصہ ہے کہ وہ علاقے کی ایک بڑی طاقت بن جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||