کالے پانی کے باسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما کے ساحل کے قریب چھوٹے چھوٹے جزائر کا ایک سلسلہ ہے جن کو جزائر این ڈیمان یا عرف عام میں کالا پانی کہا جاتا ہے۔ انگریز کے دور میں ہندوستان سے سیاسی مخالفین اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کو کالے پانی کی سزا دی جاتی تھی۔ آج ان جزائر پر نو آباد کاروں کی یلغار کی وجہ سے یہاں کے قدیم قبیلوں کی بقا خطر ے میں پڑ گئی ہے۔ ایمی کا تعلق جزائر پر بسنے والے ایک قدیم قبیلے جاراوا سے ہے۔ ایمی اپنی تاریخ پیدائش کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اس کا خیال ہے کہ وہ پندرہ سے بیس سال کا ہے۔ اس کا قبیلہ ڈہائی سو نفوس پر مشتمل ہے اور نذیک ہے کہ اس کا قبیلہ صف ہستی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹ جائے۔ جاراوا قبیلے کے لوگ خیلج بنگال میں زمین کی تہہ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث وجود میں آنے والے ان پتھریلے جزائر پر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ گو کہ یہ جزائر برما کے ساحل سے قریب اور بھارت سے نو سو میل کے فاصلے پر واقع ہیں اس کے باوجود یہ بھارت کا حصہ ہیں۔ ان جزائر کے سلسلے کے بڑے جزیرے پر بھارت سرکار نے دفاعی مقاصد کے لیے ایک شاہراہ تعمیر کی ہے جو جاراوا قبیلے کے علاقے کے درمیان سے گزرتی ہے۔ جاراوا کے قبیلے کے لوگ کے لیے یہ شاہراہ ایسی جگہ ہے جہاں کھڑے رہنے سے بسکٹ اور کھانے کی مختلف اشیا ملتی ہیں۔ اس شاہراہ پر گزرتی ہوئی گاڑیاں رک کر ان لوگوں کو کبھی بسکٹ کبھی کچھ اور کھانے کی چیزیں دے کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ قبائلی علاقوں سے گاڑیاں فوجیوں کی حفاظت میں قافلوں کی صورت میں گزرتی ہیں۔ ایمی کے لیے سڑک ایک انوکھی مگر خطرناک جگہ ہے۔ چار سال پہلے ایمی ایک دن سڑک پر کھڑا تھا کہ اسے ایک فوجی ٹرک نے ٹکر مار دی۔ ایمی خوش قسمتی سے بچ گیا لیکن اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی جس کی بنا پر اس کا تہذیب یافتہ دنیا سے رابط ممکن ہوا۔ جاراوا کے قبائل آج بھی پتھر کے زمانے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ این ڈیمان میں اب صرف چھ قبیلے رہ گئے ہیں جبکہ ایک دور میں ان کی تعداد بارہ ہوا کرتی تھی۔چھ تہذیب کی بھنٹ چڑھ گئے ہیں۔ ان میں سے ایک قبیلے کا نام اینڈیمانی ہے۔ جو کہ اب صرف اکتیس افراد پر مشتمل ہے اور ان میں سے بھی سترہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اصل نسل اینڈیمانی ہیں۔ ایمی کو اس حادثے کے بعد پورٹ بلیئر کے ایک مقامی ہسپتال میں لیے جایا گیا۔ ایمی دیوار پر لگے نلکے کو دیکھ کر خوف زداہ ہوگیا۔ اس کے لیے یہ ایک انوکھی دہات کی چیز تھی جس کو ایک جادوائی انداز میں جب گھمایا جائے تو یہ پانی بنانے لگاتا ہے۔ ایمی نے جو ہسپتال میں علاج کے دوران کچھ کچھ ہندی بولنے لگا تھا اپنی دنیا کے بارے میں بھی بہت کچھ بتایا۔ اس نے کہا کہ جاراوا میں ایک نوجوان کو اپنی مردانگی کا ثبوت دینے کے لیے ایک جنگلی سؤر کا شکار کرنا ہوتا ہے۔ جب تک وہ کسی جنگلی سؤر کا شکار نہیں کر لیتا اس کی شادی نہیں ہوسکتی۔ لیکن جزائر پر آ کر آباد ہونے والے لوگوں جاراوا کے نوجوان کے لیے مسائل پیدا کردئے ہیں۔ نوآباد کاروں نے اس قدر جنگل کاٹے ہیں کہ اب سؤر ناپید ہوگئے ہیں اور ان کا شکار انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ ایم صحت یاب ہونے کے بعد اپنے قبیلے میں واپس چلا گیا۔ اس کو ترقی یافتہ دنیا بہت پسند آئی تھی لیکن وہ اپنے طور طریقے سے رہنا چاہتا تھا۔ ایمی نے جزائر پر پائی جانے والی جڑی بوٹیوں کے بارے میں بہت سے انکشافات کئے۔ اس نے ان سے مختلف بیماریوں اور زخموں کے علاج کے طریقےبتائے۔ اس نے بتایا کہ کونسی سے جڑی کو دن کے کس حصہ میں توڑا جائے تو وہ کسی بیماری یا زخم کے لیے کارگر ثابت ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ دنیا ان جڑی بوٹیوں کے علم سے یا تو نابلد ہے یا صدیوں پہلے ان کا علم کھوچکی ہے۔ جزائر انڈیمان کے قبائل کے ختم ہونا سے ان کا یا علم بھی ان کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||