پچیس دن بعد بھی زندہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچیس دن سے جزیرے پر پھنسے ہوئے ایک شخص کو بھارتی نیوی نے بچا لیا۔ مائیکل منگل کو طوفانی لہروں نے انڈمان کے ایک جزیرے پر پھینک دیا تھا جہاں وہ ناریل کھا کرزندہ رہے۔ نکوبار کے جزیرے سے تعلق رکھنے والے مائیکل منگل کو سونامی کے دوران معمولی زخم آئے کیونکہ وہ زیادہ تر سمندری لہروں پر رہے۔ نکوبار اور انڈمان کے جزیروں میں زلزلے اورسونامی کے دوران دوہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئےجبکہ ساڑھے پانچ ہزار سے زائد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ بھارتی نیوی کے ترجمان سلیل ملہوترا نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مائیکل منگل کوایک چھوٹے سے جزیرے پر دیکھا گیا تھا جہاں پر وہ اپنے کپڑوں سے جھنڈا بنا کر اپنی طرف توجہ دلا رہے تھے۔ نیوی کی ٹیم کے ساتھ پورٹ بلئیر پہنچنے پر مائیکل منگل نے کہا کہ انہوں نے اپنےگاؤں کے لوگوں کو ہر طرف تلاش کیا لیکن ان کی کوششیں بے سود رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کئی روز ایک درخت پر چڑھے رہے کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ اگر وہ نیچے اترے تو’سمندر نگل جائے گا۔‘ چھبیس دسمبر کو آنے والی سونامی سے اب تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی حتمی تعداد شاید کبھی بھی معلوم نہ ہو سکے۔ دوسری طرف جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے زیراہتمام ہونے والی کانفرنس نے ایک منصوبہ کی منظوری دی ہے جس کے تحت قدرتی آفات سے جانی اور مالی نقصان سے بچا جا سکےگا۔ جاپان کے شہر کوبو میں ہونے والی اس کانفرنس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین نےاتفاق کیا کہ سونامی سے بچاؤ کے لیے وارننگ سسٹم اور ایمرجنسی سسٹم مستقبل کی ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہیں۔ تاہم یہ پانچ روزہ کانفرنس اپنے تجویز کردہ منصوبے کی تکمیل کے سلسلہ میں کسی حتمی تاریخ کا فیصلہ کرنے میں ناکام رہی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||