BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 December, 2005, 07:12 GMT 12:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونامی اور سیاست پر اثرات

سونامی: آچے کے پناہ گزین
سونامی کی تباہی کے فوراً بعد اس سال کے شروع میں میں نے کہا تھا کہ اس قدرتی آفت کے اثرات سیاست پر بھی مرتب ہوں گے اورپیش گوئی کی تھی کہ اس کے اثرات انڈونیشیا اور سری لنکا پر بھی ہوں گے جو خانہ جنگی کا شکار ہیں۔

سری لنکا کے بارے میں میں نے کہا تھا کہ ’شکوک و شبہات میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مسئلے کا سیاسی حل مزید مشکل ہو جائے گا‘۔ یہ کافی حد تک صحیح ثابت ہوا ہے اگرچہ اب امن کی طرف کچھ پیش رفت ہو رہی ہے۔

انڈونیشیا کے بارے میں میرا کہنا تھا کہ ’اگر آزادی کی تحریک نے یہ محسوس کیا کہ حکومت سونامی سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے تو اس کی مسلح کارروائیوں میں تیزی آ سکتی ہے‘۔ یہ غلط ثابت ہوا اور اب وہاں امن کا معاہدہ ہو چکا ہے۔

سری لنکا میں پہلا اہم واقعہ صدر مہندرہ راجہ پکسے کا انتخاب ہے جنہیں سخت گیر موقف کا حامل سمجھا جاتا ہے، تاہم اب انہوں نے تامل ٹائیگرز کو نئے سرے سے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ اس طرح جمود کو توڑنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

تاہم مسئلے کے مستقل حل کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور سونامی ان شکوک و شبہات میں اضافہ کرنے کا باعث بنا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سونامی سے بحالی کے لیے وضع کیے گئے اشتراکی نظام کو سپریم کورٹ نے معطل کر رکھا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ تامل ٹائیگرز ریاست کا حصہ نہیں ہیں اس لیے وہ اس کارروائی کا باقاعدہ حصہ نہیں بن سکتے۔ یہ مقدمہ سنہالی گروپوں کی طرف سے دائر کیا گیا تھا جن کے خیال میں یہ تامل باغیوں کو تسلیم کرنے کی ایک صورت تھی۔

سری لنکا میں تامل ٹائیگر
حکومت نے انہیں دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی ہے

اس صورت حال میں بحالی کا کام غیر سرکاری تنظیمیں سرانجام دے رہی ہیں اور تامل علاقوں میں ٹائیگرز خود یہ کام کر رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ رقم بہر حال خرچ کر رہی ہے لیکن باغی اس سے خوش نہیں ہیں۔

بی بی سی تامل سروس کے سربراہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ناکامی بہت اہم واقعہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ بنیادی طور پر ایک موقع تھا لیکن بحالی کے مسائل نے شکوک و شبہات میں اضافہ کر دیا۔ تامل ٹائیگرز کا کہنا ہے کہ سنہالیوں کو ان کی پرواہ نہیں ہے‘۔

بی بی سی کے سنہالی سروس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’حکومت امن مذاکرات میں آگے بڑھنے میں سنجیدہ ہے کیونکہ بہت سی امداد اس سے مشروط ہے۔ تاہم 2002 کی جنگ بندی کے بعد سب موجودہ صورتحال کے برقرار رہنے پر مطمئن ہیں‘۔

اس لیے سری لنکا کی سیاست کچھ زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔

انڈونیشیا کی صورت حال مختلف ہے۔ میں نے سونامی کا مشرقی پاکستان میں 1970 میں آنے والے سمندری طوفان سے موازنہ کیا تھا جس پر حکومت پاکستان کے سست ردعمل نے مستقبل میں علیحدگی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

لیکن یہ موازنہ انڈونیشیا کے معاملے سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ انڈونیشیا کے صوبہ آچے میں تباہی اتنی زیادہ تھی کہ لوگوں کے دل و دماغ پر گہرا اثر ہوا۔

آچے کی تحریک آزادی کے کارکنوں نے اپنے مقصد کے حصول کو معطل کر دیا کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ ان کے اپنے لوگ شدید متاثر ہوئے تھے اور آزادی کی بجائے ان کی بحالی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

فوج واپس جاتے ہوئے لوگوں سے مل رہی ہے
انڈونیشیا آچے سے فوج واپس بلا رہا ہے

اگست میں حکومت اور تحریک آزادی کے نمائندوں کے درمیان معاہدہ طے پایا جس میں سونامی کا خصوصی ذکر تھا۔ اس کی ایک شق میں لکھا ہے کہ ’فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ صرف پر امن حل کے ذریعے ہی سونامی کے بعد آچے کی بحالی ممکن ہے‘۔

اس کے بعد سے عمل درآمد کافی بہتر طریقے سے جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں باغیوں کو اپنے ہتھیار واپس کرنے ہیں اور حکومت کو اپنی فوجیں واپس بلانا ہیں۔ یہ مرحلہ اس سال کے اختتام پر مکمل ہونا ہے اور اب تک پرامن طریقے سے چل رہا ہے۔

بی بی سی کے مدیر اینگس فوسٹر کے مطابق اس عرصہ کے دوران باغیوں نے سینکڑوں ہتھیار جمع کروائے ہیں اور حکومت بھی فوج واپس بلا رہی ہے۔

اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ عمل اسی طرح جاری رہے گا تو آچے کی حکومت ایک نئے قانون کے تحت چلائی جائے گی جس میں کافی حد تک خود مختاری ہو گی۔ اس قانون کو جنوری میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور یہ مارچ 2006 سے نافذالعمل ہو گا۔ انتخابات 2006 میں متوقع ہیں۔

امداد صرف امیر کو
سونامی امداد سے غریب متاثرین محروم
غوطہ خورسونامی کا تحفہ
سونامی نےایک دیومالائی شہر کے آثارظاہر کر دیے
سونامی کا مقدمہ
متاثرہ شخص کا سری لنکا کی حکومت پر مقدمہ
انڈونیشیا کی ایک مسجدایمان مضبوط ہو گیا
زلزلے کے بعد ایمان مزید مضبوط ہوا
سونامی سے متاثرہ افرادغربت بڑھے گی
سونامی سے سب سے زیادہ غریب متاثر
اسی بارے میں
ہنگامی کیش فنڈ کی منظوری
16 December, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد