BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 May, 2006, 22:15 GMT 03:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
27 مئی : یوگ یاکرتا کے لوگوں پر کیا گزری
ہلاکتوں کی تعداد 3000 بتائی گئی ہے
انڈونیشیا کے جزیرے مرکزی جاوا میں ستائیس مئی کو آنے والے زلزلے کے متاثرین میں بی بی سی کے قارئین بھی شامل ہیں جن میں چند نے زلزلے کے بارے میں اپنے تاثرات بی بی سی کو بھیجے ہیں جو حسب ذیل ہیں:

کیوِن فریڈمین، عمر 25 سال، یوگ یاکرتا
’’پوری عمارت ہلنے لگی جس نے مجھے جگا دیا۔ میرا بڑا بستر کئی انچ ایک جانب سے دوسری جانب کودنے لگا اور چھت کے ملبے گرنے لگے۔ زلزلے کے جھٹکے کے بعد میں باہر گیا اور اپنے دوستوں کی تلاش کرنے لگا۔ سڑکوں پر افراتفری تھی۔ ہوٹلوں اور دکانوں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔

شہر میں کچھ وقفے کے لیے خاموشی چھا گئی، صبح سات بجے تک، جب لوگ یہ سمجھنے لگے کہ شاید اس سے بھی بڑا زلزلہ آئے گا۔ مشکل اس افواہ سے بھی بڑھ گئیں کہ سونامی کی بڑی لہریں ادھر کو آرہی ہیں۔ سڑکوں پر افراتفری مچ گئی اور بہت لوگ موٹر سائکلوں، کاروں یا کسی بھی گاڑی پر سوار ہوکر بھاگنے لگے۔ اس کے بعد کچھ چھوٹے جھٹکوں کے بعد حالات معمول پر آنے لگے، کم سے کم میرے علاقے میں۔

کچھ دیر کے بعد میں مقامی ہسپتال گیا تاکہ لوگوں کی مدد کرسکوں۔ میں نے پورا دن وہاں گزارا، لگتا تھا یہاں کوئی جنگ ہوئی ہے۔ سینکڑوں لوگوں کو ٹرکوں، بسوں اور سائکلوں سے درجنوں کی تعداد میں طبی مدد کے لیے لایا جارہا تھا۔ چند ڈاکٹر ہی ڈیوٹی پر تھے اور زخمیوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ اس ہسپتال کےباہر کوئی ایک ہزار لوگ رہے ہوں گے، جن میں زخمیوں کے رشتہ دار بھی تھے۔

آج کی شب کافی مشکل ہوگی، جب نیند نہیں آسکتی۔ میں تو خوش قسمت ہوں، لیکن بہت غریب لوگ بےگھر ہوگئے ہیں۔ بانتول کے علاقے میں میرے دوست رہتے ہیں جن کے گھر زمیں بوس ہوگئے۔ میں کل ان سے ملنے دوبارہ جاؤں گا۔
کیوِن فریڈمین، عمر 25 سال
لوگ چٹائیوں پر لیٹے ہوئے تھے، ہر جگہ خون ہی دکھائی دے رہا تھا، عجیب حالات تھے۔ سینکڑوں لوگ ایسے تھے جن کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں، ان کے سروں میں زخم تھے۔ یہاں پر ہلاکتیں تو نہیں تھیں لیکن شہر کے اندر ضرور لوگ ہلاک ہوئے۔ اس محمدیہ ہسپتال کے طبی عملے کی تعریف کی جانی چاہیے۔

اس کے بعد میں موٹرسائکل سے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ شہر کے جنوبی علاقوں کی جانب گیا کہ خود تباہی کا اندازہ لگا سکوں، اور یہ تباہی ہی تھی۔ چھتیں، چھ فٹ اونچے باڑ، پوری عمارتیں، سب ملبہ بن گئےتھے اور ان کی تعداد کم نہیں تھی۔ آج کی شب کافی مشکل ہوگی، جب نیند نہیں آسکتی۔ میں تو خوش قسمت ہوں، لیکن بہت غریب لوگ بےگھر ہوگئے ہیں۔ بانتول کے علاقے میں میرے دوست رہتے ہیں جن کے گھر زمیں بوس ہوگئے۔ میں کل ان سے ملنے دوبارہ جاؤں گا۔ ‘‘

ونسیٹ میئر، عمر 42 سال، یوگ یاکرتا
میں ابھی بھی صدمے میں ہوں، زلزلے کو بارہ گھنٹے گزر چکے ہیں۔ آج صبح پانچ بجکر پچپن منٹ پر شدید قسم کی آواز نے مجھے جگا دیا۔ میری اہلیہ، میرا بیٹا اور میں سڑک پر باہر بھاگ آئے۔

کافی ڈر لگ رہا تھا۔ میں یہاں اٹھارہ سالوں سے رہ رہا ہوں لیکن اس طرح کا کبھی کچھ بھی نہیں دیکھا۔ ہم نے سوچا کہ میراپی میں شاید آتش فشاں پھٹ گیا جس کے بارے میں حال ہیں میں سنا گیا تھا۔

سڑکوں پر لوگوں کی بھیڑ تھی جو خوف سے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ فضا میں خوف تھا۔ ہر طرف افواہیں پھیلی ہوئی تھیں کہ سونامی کی لہریں ادھر کو آرہی ہیں، پھر ہم نے سنا کہ لوگ زلزلے کے بعد شمال کی جانب بھاگ رہے ہیں۔ مجھے یوگ یاکرتا کے اطراف میں جاکر دیکھنے کا موقع نہیں ملا کیوں کہ میری گاڑی میں پیٹرول نہیں ہے۔

 ہمارے گھر پر ایک اٹھائیس سالہ ملازمہ جس کا نام مارسیلا ہے، کام کرتی ہے، اسے صبح آنا تھا لیکن نہیں آئی۔ وہ بانتول کے علاقے سے ہے جہاس سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہم اس کے بارے میں پریشان ہیں، وہ ایک چھوٹے گھر میں رہتی ہے اور ایک چھوٹا بچہ بھی ہے۔ میں کل وہاں جاؤں گا تاکہ دیکھوں کہ وہ کس حالت میں ہے۔
ونسیٹ میئر، عمر 42 سال
ہمارے گھر پر ایک اٹھائیس سالہ ملازمہ جس کا نام مارسیلا ہے، کام کرتی ہے، اسے صبح آنا تھا لیکن نہیں آئی۔ وہ بانتول کے علاقے سے ہے جہاس سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہم اس کے بارے میں پریشان ہیں، وہ ایک چھوٹے گھر میں رہتی ہے اور ایک چھوٹا بچہ بھی ہے۔ میں کل وہاں جاؤں گا تاکہ دیکھوں کہ وہ کس حالت میں ہے۔

یہاں اب سڑکوں پر بہت خاموشی چھائی ہوئی ہے، جو عجیب سی ہے کیوں کہ اس وقت یہاں کاروں، گاڑیوں کا رش رہتا ہے۔ زلزلے کے بعد سے کافی افواہیں گردش میں ہیں، کوئی بڑی افواہیں تو نہیں لیکن ان سے ڈر لگتا ہے۔ ہم خوف زدہ ہیں کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ دوسرا زلزلہ بھی آئے گا کیا۔ آج رات کو سونے سے ڈر لگے گا۔

اس بات کا خدشہ بھی ہے کہ زلزلے سے قریب میں واقع میراپی کی پہاڑیوں میں آتش فشاں پھوٹ سکتا ہے۔ بجلی نہیں ہے، ہمارے پاس موم بتیاں اور کھانے کی اشیاء ہیں، کم سے کم اس وقت کے لیے۔

اس طرح کی اطلاعات مل رہی ہیں کہ ہسپتالوں میں افراتفری ہے کیوں کہ زخمی لوگوں کو بڑی تعداد میں لایا جارہا ہے۔ طبی عملے کے اہلکار لوگوں کی مدد کرنے کی جد و جہد کررہے ہیں۔ بہت مشکل ہے، ہم خوش قسمت ہیں کہ زندہ ہیں۔‘‘

جورڈ نیوٹن، عمر 23 سال، یوگ یاکرتا
’’صبح چھ بجے سے کچھ پہلے، میرے ہوٹل کا کمرہ ہلنے لگا جس نے مجھے جگا دیا۔ خوف ناک حالت تھی۔ دیواروں پر لگا ہوا پلاسٹر ٹوٹ کر گرنے لگا، چھت میں دراڑ پڑنے لگی۔ یہ ستاون سیکنڈ تک ہوتا رہا، لیکن ایسا لگا کہ کافی عرصہ ہوگیا۔

میں اور میری گرل فرینڈ برآمدے کی جانب دوڑے، سیڑھیوں سے نیچے بھاگنے لگے، دوسرے لوگوں کو بھی عمارت سے باہر جاتے ہوئے دیکھا۔ اگرچہ لوگ جلدی سے باہر نکلنا چاہتے تھے تاہم ایک منظم کوشش تھی۔

ہم کچھ دیر تک باہر کھڑے رہے، اس فکر میں مبتلا کہ آگے کیا کرنا ہے، پھر ہوٹل کے عملے نے کہا کہ ہم واپس کمرے میں جاسکتے ہیں۔

ہوٹل اور دوسری عمارتیں لگتا ہے کہ کچھ حد تک کامیاب رہیں کہ گری نہیں۔ لیکن ہمیں شہر کے جنوبی علاقوں سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ وہاں عمارتیں زمیں بوس ہوگئی ہیں۔

میری گرل فرینڈ کے رشتے دار بانتول اور پرام با نین علاقے میں رہتے ہیں جو بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وہ کافی پریشان ہے، ان سے رابطہ نہیں ہورہا ہے۔ دن بھر زلزلے کے جھٹکے آتے رہے، افواہیں پھیلتی رہیں، جن سے ہمیں کافی پریشانی رہی۔ ہم جب تک فیصلہ نہیں کرتے کہ آگے کیا کریں گے یہیں پر ہیں۔‘‘


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
آپ نے کیا دیکھا؟انڈونیشیا میں زلزلہ
زلزلے کا آنکھوں دیکھا حال ہمیں لکھ بھیجیے
زلزلہلوگوں کی کہانیاں
انڈونیشیا میں زلزلہ متاثرین پر کیا گزری؟
سونامی وارننگ سینٹر ہوائی میں سائنسدان سونامی کا خطرہ
سونامی سے خبردار کرنے والے نظام کا تجربہ
سونامی اور تعمیرِ نوسونامی اور تعمیرِ نو
کیا اتنی ہی امداد ملے گی جتنے وعدے کیے گیے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد