27 مئی : یوگ یاکرتا کے لوگوں پر کیا گزری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے جزیرے مرکزی جاوا میں ستائیس مئی کو آنے والے زلزلے کے متاثرین میں بی بی سی کے قارئین بھی شامل ہیں جن میں چند نے زلزلے کے بارے میں اپنے تاثرات بی بی سی کو بھیجے ہیں جو حسب ذیل ہیں: کیوِن فریڈمین، عمر 25 سال، یوگ یاکرتا شہر میں کچھ وقفے کے لیے خاموشی چھا گئی، صبح سات بجے تک، جب لوگ یہ سمجھنے لگے کہ شاید اس سے بھی بڑا زلزلہ آئے گا۔ مشکل اس افواہ سے بھی بڑھ گئیں کہ سونامی کی بڑی لہریں ادھر کو آرہی ہیں۔ سڑکوں پر افراتفری مچ گئی اور بہت لوگ موٹر سائکلوں، کاروں یا کسی بھی گاڑی پر سوار ہوکر بھاگنے لگے۔ اس کے بعد کچھ چھوٹے جھٹکوں کے بعد حالات معمول پر آنے لگے، کم سے کم میرے علاقے میں۔ کچھ دیر کے بعد میں مقامی ہسپتال گیا تاکہ لوگوں کی مدد کرسکوں۔ میں نے پورا دن وہاں گزارا، لگتا تھا یہاں کوئی جنگ ہوئی ہے۔ سینکڑوں لوگوں کو ٹرکوں، بسوں اور سائکلوں سے درجنوں کی تعداد میں طبی مدد کے لیے لایا جارہا تھا۔ چند ڈاکٹر ہی ڈیوٹی پر تھے اور زخمیوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ اس ہسپتال کےباہر کوئی ایک ہزار لوگ رہے ہوں گے، جن میں زخمیوں کے رشتہ دار بھی تھے۔ اس کے بعد میں موٹرسائکل سے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ شہر کے جنوبی علاقوں کی جانب گیا کہ خود تباہی کا اندازہ لگا سکوں، اور یہ تباہی ہی تھی۔ چھتیں، چھ فٹ اونچے باڑ، پوری عمارتیں، سب ملبہ بن گئےتھے اور ان کی تعداد کم نہیں تھی۔ آج کی شب کافی مشکل ہوگی، جب نیند نہیں آسکتی۔ میں تو خوش قسمت ہوں، لیکن بہت غریب لوگ بےگھر ہوگئے ہیں۔ بانتول کے علاقے میں میرے دوست رہتے ہیں جن کے گھر زمیں بوس ہوگئے۔ میں کل ان سے ملنے دوبارہ جاؤں گا۔ ‘‘ ونسیٹ میئر، عمر 42 سال، یوگ یاکرتا کافی ڈر لگ رہا تھا۔ میں یہاں اٹھارہ سالوں سے رہ رہا ہوں لیکن اس طرح کا کبھی کچھ بھی نہیں دیکھا۔ ہم نے سوچا کہ میراپی میں شاید آتش فشاں پھٹ گیا جس کے بارے میں حال ہیں میں سنا گیا تھا۔ سڑکوں پر لوگوں کی بھیڑ تھی جو خوف سے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ فضا میں خوف تھا۔ ہر طرف افواہیں پھیلی ہوئی تھیں کہ سونامی کی لہریں ادھر کو آرہی ہیں، پھر ہم نے سنا کہ لوگ زلزلے کے بعد شمال کی جانب بھاگ رہے ہیں۔ مجھے یوگ یاکرتا کے اطراف میں جاکر دیکھنے کا موقع نہیں ملا کیوں کہ میری گاڑی میں پیٹرول نہیں ہے۔ یہاں اب سڑکوں پر بہت خاموشی چھائی ہوئی ہے، جو عجیب سی ہے کیوں کہ اس وقت یہاں کاروں، گاڑیوں کا رش رہتا ہے۔ زلزلے کے بعد سے کافی افواہیں گردش میں ہیں، کوئی بڑی افواہیں تو نہیں لیکن ان سے ڈر لگتا ہے۔ ہم خوف زدہ ہیں کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ دوسرا زلزلہ بھی آئے گا کیا۔ آج رات کو سونے سے ڈر لگے گا۔ اس بات کا خدشہ بھی ہے کہ زلزلے سے قریب میں واقع میراپی کی پہاڑیوں میں آتش فشاں پھوٹ سکتا ہے۔ بجلی نہیں ہے، ہمارے پاس موم بتیاں اور کھانے کی اشیاء ہیں، کم سے کم اس وقت کے لیے۔ اس طرح کی اطلاعات مل رہی ہیں کہ ہسپتالوں میں افراتفری ہے کیوں کہ زخمی لوگوں کو بڑی تعداد میں لایا جارہا ہے۔ طبی عملے کے اہلکار لوگوں کی مدد کرنے کی جد و جہد کررہے ہیں۔ بہت مشکل ہے، ہم خوش قسمت ہیں کہ زندہ ہیں۔‘‘ جورڈ نیوٹن، عمر 23 سال، یوگ یاکرتا میں اور میری گرل فرینڈ برآمدے کی جانب دوڑے، سیڑھیوں سے نیچے بھاگنے لگے، دوسرے لوگوں کو بھی عمارت سے باہر جاتے ہوئے دیکھا۔ اگرچہ لوگ جلدی سے باہر نکلنا چاہتے تھے تاہم ایک منظم کوشش تھی۔ ہم کچھ دیر تک باہر کھڑے رہے، اس فکر میں مبتلا کہ آگے کیا کرنا ہے، پھر ہوٹل کے عملے نے کہا کہ ہم واپس کمرے میں جاسکتے ہیں۔ ہوٹل اور دوسری عمارتیں لگتا ہے کہ کچھ حد تک کامیاب رہیں کہ گری نہیں۔ لیکن ہمیں شہر کے جنوبی علاقوں سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ وہاں عمارتیں زمیں بوس ہوگئی ہیں۔ میری گرل فرینڈ کے رشتے دار بانتول اور پرام با نین علاقے میں رہتے ہیں جو بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وہ کافی پریشان ہے، ان سے رابطہ نہیں ہورہا ہے۔ دن بھر زلزلے کے جھٹکے آتے رہے، افواہیں پھیلتی رہیں، جن سے ہمیں کافی پریشانی رہی۔ ہم جب تک فیصلہ نہیں کرتے کہ آگے کیا کریں گے یہیں پر ہیں۔‘‘ |
اسی بارے میں جاوا زلزلہ: 3000 ہلاکتیں، ہزاروں زخمی27 May, 2006 | آس پاس انڈونیشیا: زلزلے میں 46 افراد ہلاک27 May, 2006 | آس پاس انڈونیشیا زلزلے میں کئی افراد ہلاک27 May, 2006 | آس پاس انڈونیشیا زلزلے کی وڈیو رپورٹ27 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||