BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 May, 2006, 00:16 GMT 05:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسمان تلے دوسری شب گزارنے پر مجبور
انڈونیشیا
بہت لوگ ابھی بھی مکانوں کے ملبوں میں پھنسے ہوئے ہیں
انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں، جہاں سنیچر کے زلزلے میں 4,500 لوگ ہلاک اور ہزاروں خاندان بےگھر ہوگئے تھے، امدادی کارکن بچے ہوئے لوگوں کی تلاش کررہے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بہت لوگ ابھی بھی مکانوں کے ملبوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

جاوا کے شہر یوگ کارتا میں اس زلزلے کی شدت سب سے زیادہ تھی جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ زخمی اور بےگھر ہوگئے۔ انڈونیشیا کےنائب صدر یوسف کلاُ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ زلزلے میں زخمیوں کی تعداد 10000 اور کے 20000 درمیان ہے۔

جاوا کے جنوبی ساحل پر زلزلے سے متاثرہ خاندانوں نے سنیچر کی شب گھروں سے باہر سڑکوں پر عارضی پناہ گاہوں میں گزاری جبکہ وقتا فوقتا زلزلے کے مزید جھٹکے آتے آرہے اور متاثرین میں خوف کا ماحول تھا۔

جس علاقے میں زلزلہ آیا وہ کافی گھنی آبادی والا علاقہ ہے اور انڈونیشیا میں امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے لگ بھگ دو لاکھ لوگوں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

متاثرہ علاقوں میں لوگ ہلاک ہونے والوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کررہے ہیں۔ یوگ کارتا کا جنوبی علاقہ بانتول اس زلزلے سے بری طرح متاثر ہوا تھا اور یہاں ہلاکتوں کی تعدد 2000 سے زائد ہے۔

کھلے آسمان علاج کرنے پر مجبور
 زلزلے کے بعد جاری رہنے والے جھٹکوں کی وجہ سے ہسپتالوں کے طبی عملے زخمیوں کو عمارت سے باہر کھلے آسمان علاج کرنے پر مجبور ہوگئے

عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس نے دس ملین ڈالر کی امداد کی اپیل شروع کی ہے۔ بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ وہ دوہزار ٹینٹ اور نو ہزار تمبو اور دوائیں ارسال کررہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ ادارے کی امدادی ٹیم ریلیف کے سامان کے ساتھ مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بمبانگ یودویونو نے امدادی کارکنوں سے چوبیس گھنٹے مسلسل کام کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔

امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق صدر یودویونو نے گزشتہ شب متاثرین کے ساتھ ایک ٹینٹ میں گزاری۔

سنیچر کی صبح کے زلزلے کے بعد جاری رہنے والے جھٹکوں کی وجہ سے ہسپتالوں کے طبی عملے زخمیوں کو عمارت سے باہر کھلے آسمان علاج کرنے پر مجبور ہوگئے۔ انڈونیشیا کے ریڈ کراس نے کہا ہے کہ اس نے ہنگامی امدادی ٹیم متاثرہ علاقے میں بھیج دیا ہے اور اکیس فیلڈ ہسپتال کام کررہے ہیں۔

یوگ یاکرتا میں واقع ہسپتالوں میں ہلاک شدہ اور زخمی افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان ہسپتالوں میں موجود طبی عملہ اتنی بڑی تعداد میں زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے ناکافی ہے۔ یوگ یاکرتا کا ایئر پورٹ بھی بند ہے۔ اطلاعات ہیں کہ رن وے پر بھی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

ہزاروں خاندانوں نے پہلی شب کھلے آسمان تلے گزاری

یوگ کارتا میراپی کی پہاڑیوں کے قریب ہے جہاں اسی ماہ آتش فشاں کے پھٹنے کے خدشے کے تحت ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کردیا گیا۔

ماہرین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ کیا زلزلے کی وجہ سے میراپی کا آتش فشاں متاثر ہوسکتا ہے لیکن میراپی کی پہاڑیوں میں زلزلے کے بعد آتش فشاں میں تیزی ضرور دیکھی گئی جس کے نتیجے میں اس کے ملبے ساڑھے تین کلومیٹر دور تک جاگرے۔

انڈونیشیا کے حکام نے کہا ہے کہ اگرچہ زلزلے سے متاثر ہونے والا علاقی ساحلی ہے تاہم سونامی کی لہروں کا خدشہ نہیں ہے۔ سمندری زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لہروں کو سونامی کہا جاتا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق سنیچر کی صبح پانچ بجکر چون منٹ پر چھ اعشاریہ دو کی شدت کا زلزلہ مرکزی جاوا کے جزیرے پر آیا جس کا مرکز یوگ یاکرتا نامی ساحلی شہر تھا۔ یوگ یاکرتا انڈونیشیا کا قدیمی دارالحکومت ہے جو موجودہ دارالحکومت جکارتہ سے جنوب مشرق میں 440 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

دسمبر 2004 میں انڈونیشیا کے ساحل پر سمندر میں آنے والے زلزلے سے پیدا ہونے والی سونامی کی لہروں سے لاکھوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ زلزلہ سونامی کا باعث نہیں بنا ہے۔

اسی بارے میں
انڈونیشیا میں شدید زلزلہ
27 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد