BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 June, 2007, 23:42 GMT 04:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متاثرینِ زلزلہ کا مظاہرہ

متاثرین کا مظاہرہ(فائل فوٹو)
زلزلہ متاثرین امدادی تنظیموں کے رویوں پر پہلے بھی مظاہرے کرتے رہے ہیں(فائل فوٹو)
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کے نواح میں قائم ایک خیمہ بستی کے مکینوں نے میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی ایک امدادی تنظیم اور اس کے بعض اہلکاروں کے طرز عمل کے خلاف اتوار کو ایک مظاہرہ کیا۔

مظاہرین امدادی تنظیموں کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔ انہوں نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر امدادی تنظیموں کے خلاف نعرہ درج تھے۔

مظاہرین نے امدادی تنظیموں کے بعض اہلکاروں پر خواتین کے ساتھ نامناسب رویے کے ساتھ ساتھ ناقص اشیاء فراہم کرنے کا الزام عائد کیا اور یہ بھی کہ امدادی تنظیمیں مقامی پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی بجائے پاکستان کے مختلف شہروں سے لوگ بھرتی کرتے ہیں۔

اسی خیمہ بستی کی ایک خاتون نے حال ہی میں محکمۂ صحت کے حکام کو ایک تحریری درخواست دی تھی جس میں انہوں نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ایک برطانوی امدادی تنظیم کے تحت چلنے والے صحت کے مرکز کے ایک ڈاکڑ نے اپنے علاقوں کو واپس جانے والوں کی میڈیکل سکرینگ کے دوران ان کے ساتھ غیر شائستہ زبان استعمال کی اور کچھ ایسی باتیں کیں جنہیں وہ دہرا نہیں سکتیں۔ محکمۂ صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہیں شکایت موصول ہوئی ہے اور وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

مظاہرین نے اس موقع پر مبینہ طور پر برطانوی امدادی تنظیم کی طرف سے فراہم کی جانے والی ’ہائی جین کٹس‘ کو بھی نذرِ آتش کیا اور ان کا الزام تھا کہ ان میں بعض اشیا غیر معیاری اور ناقابل استعمال ہیں۔

مذکورہ برطانوی تنظیم کی پاکستان میں کنڑی ہیلتھ ڈائریکٹر نے اس امر کی تردید کی ہے کہ ان کی تنظیم کا کوئی ڈاکڑ غیر مناسب زبان استعمال کر سکتا ہے لیکن انہوں نے ہائجین کٹس کے بارے میں بات کرنے سے گریز کیا۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ امدادی تنظیموں پر گھٹیا معیار کی ہائی جین کٹس فراہم کرنے الزام لگایا گیا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف پر بھی اس طرح کا الزام لگایا گیا تھا اور یونیسف نے یہ تسلیم کیا تھا کہ کچھ گھٹیا معیار کی اشیاء متاثرین کو فراہم کی گئیں تھیں۔

زلزلے کو ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ کچھ امدادی تنظیموں اور مقامی لوگوں کے درمیان خلیج کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد